
تحریر: ایم ندیم بٹ
برسلز امن نیوز انٹرنیشنل (یورپ سے ) مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جو خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحرِ عرب سے ملاتی ہے۔ یہ تنگ مگر انتہائی مصروف آبی راستہ عالمی توانائی کی ترسیل میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے، اسی لیے اس کی بندش کے خدشات عالمی معیشت کے لیے بڑے خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔

عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ اندازوں کے مطابق دنیا کے تقریباً بیس فیصد خام تیل اور تیس فیصد مائع قدرتی گیس اسی گزرگاہ کے ذریعے عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔ خلیجی ممالک جیسے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، قطر اور عراق اپنی توانائی کی برآمدات کے لیے اسی راستے پر انحصار کرتے ہیں۔ اگر یہ گزرگاہ بند ہو جائے تو عالمی سطح پر توانائی کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔
حالیہ علاقائی کشیدگی میں ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازع اور امریکا کی بحری موجودگی نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر اس علاقے میں فوجی سرگرمیوں میں اضافہ ہوتا ہے تو بحری جہازوں کی نقل و حرکت خطرناک ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں تجارتی سرگرمیوں اور عالمی سپلائی چین کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
اگر آبنائے ہرمز بند ہو جاتی ہے تو اس کا پہلا اور فوری اثر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں سامنے آئے گا۔ سپلائی میں کمی کے باعث تیل مہنگا ہو جائے گا، جس کے اثرات پٹرول، ڈیزل اور بجلی کی قیمتوں پر بھی پڑیں گے۔ توانائی مہنگی ہونے سے ٹرانسپورٹ، صنعت اور پیداوار کے اخراجات بڑھ جائیں گے اور اس کے نتیجے میں دنیا بھر میں مہنگائی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک وہ ہوں گے جو خلیجی تیل اور گیس پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ خاص طور پر ایشیائی ممالک جیسے چین، بھارت اور جاپان اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ اسی خطے سے حاصل کرتے ہیں۔ اگر سپلائی متاثر ہوتی ہے تو ان ممالک میں توانائی کی قلت پیدا ہو سکتی ہے جس سے صنعتی پیداوار اور اقتصادی سرگرمیوں پر بھی منفی اثر پڑ سکتا ہے۔
اگرچہ بعض خلیجی ممالک نے تیل کی ترسیل کے لیے متبادل پائپ لائنیں اور دیگر راستے تیار کیے ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق یہ راستے مکمل طور پر آبنائے ہرمز کا متبادل نہیں بن سکتے۔ اسی لیے عالمی طاقتیں اس اہم سمندری گزرگاہ کو محفوظ اور کھلا رکھنے کے لیے سفارتی اور عسکری سطح پر مسلسل کوششیں کرتی رہتی ہیں۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو آبنائے ہرمز محض ایک جغرافیائی گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کی ایک اہم شہ رگ ہے۔ اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ نہ صرف توانائی کی عالمی منڈیوں کو متاثر کرے گی بلکہ عالمی تجارت، مہنگائی اور اقتصادی استحکام پر بھی گہرے اثرات مرتب کرے گی۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کی نظریں اس اہم سمندری گزرگاہ اور اس کے اردگرد پیدا ہونے والی صورتحال پر مرکوز ہیں۔


