وفاقی آئینی عدالت کا تاریخی فیصلہ

وفاقی آئینی عدالت نے ایک اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قبل از وفات بیٹی کے ورثا کے وراثتی حقوق کو تسلیم کیا۔ یہ فیصلہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ قانونی ورثا کے حقوق کا تحفظ کیا جانا چاہیے۔
اسلام آباد (16 اپریل 2026) وفاقی آئینی عدالت پاکستان نے ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے قبل از وفات بیٹی سردار بیگم کے ورثا کے وراثتی حقوق کو تسلیم کیا ہے۔ عدالت کی سربراہی معزز چیف جسٹس جسٹس امین الدین خان کر رہے تھے اور دیگر ججوں میں معزز جسٹس علی باقر نجفی شامل تھے۔ یہ فیصلہ سی پی ایل اے نمبر 3378 آف 2022 میں جاری کیا گیا ہے، جو ایک عرصے سے چلنے والے کیس پر مبنی ہے۔ یہ مقدمہ موضع دھونکل، تحصیل وزیر آباد میں اراضی کے بندوبست کے سلسلے میں وراثتی حقوق کے معاملے پر تھا۔ اس مقدمے میں یہ بات سامنے آئی کہ سردار بیگم کو سرکاری وراثتی ریکارڈ میں شامل نہیں کیا گیا تھا، جس کی وجہ سے وہ اور ان کے ورثا کئی دہائیوں تک اپنے قانونی حقوق سے محروم رہے۔ عدالت نے دوران سماعت دیگر قانونی ورثا کی جانب سے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ سردار بیگم کا حق تسلیم کیا جانا چاہیے۔




