انٹر نیشنل

کاجا کالاس کا دورۂ پاکستان خوش آئند، یورپی یونین مسئلہ کشمیر کے حل میں مثبت کردار ادا کرے، کشمیر کونسل ای یو

کاجا کالاس کے دورۂ پاکستان کا خیر مقدم کرتے ہیں - چیئرمین کشمیر کونسل ای یو

برسلز – ( تحریر: محمد ندیم بٹ ) یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے خارجہ امور و سلامتی پالیسی اور یورپی کمیشن کی نائب صدر کاجا کالاس کا پاکستان کا دورہ سفارتی اور علاقائی سطح پر غیر معمولی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔ اسلام آباد میں منعقد ہونے والے آٹھویں یورپی یونین پاکستان اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے موقع پر مختلف سیاسی، سفارتی اور بین الاقوامی حلقے اس دورے کو خطے میں امن، استحکام اور دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔ کشمیر کونسل ای یو کے چیئرمین علی رضا سید نے بھی کاجا کالاس کے دورۂ پاکستان کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے ان کا کہنا ہے کہ یورپی یونین اور پاکستان کے درمیان اسٹریٹجک ڈائیلاگ دوطرفہ تعلقات کے فروغ کا سب سے مؤثر پلیٹ فارم بن چکا ہے اور اس کے ذریعے سیاسی، اقتصادی، تجارتی اور سیکیورٹی شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت ملے گی۔
علی رضا سید کے مطابق کاجا کالاس کی پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت سے ملاقاتیں نہ صرف دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد میں اضافہ کریں گی بلکہ علاقائی استحکام اور مشترکہ مفادات کے فروغ کے لیے بھی نئی راہیں کھولیں گی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان مسلسل رابطے اور مکالمے کی اشد ضرورت ہے تاکہ خطے کو درپیش چیلنجز کا مشترکہ طور پر مقابلہ کیا جا سکے۔
انہوں نے اس موقع پر مسئلہ کشمیر کو جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے بنیادی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مستقل امن اسی صورت میں ممکن ہے جب مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کیا جائے۔ ان کے مطابق یورپی یونین، جو پاکستان اور بھارت دونوں کے ساتھ اہم اقتصادی اور سفارتی تعلقات رکھتی ہے، اس مسئلے کے حل کے لیے ایک مثبت اور تعمیری کردار ادا کر سکتی ہے۔
کشمیر کونسل ای یو کے چیئرمین نے کہا کہ یورپ کے پاکستان اور بھارت دونوں کے ساتھ وسیع تجارتی مفادات وابستہ ہیں۔ اس لیے خطے میں امن اور استحکام نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ یورپی یونین کے اپنے اقتصادی اور تزویراتی مفادات کے لیے بھی ضروری ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے موقع پر علاقائی امن اور تنازعات کے پرامن حل کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
علی رضا سید نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن، مذاکرات اور باہمی احترام کی پالیسی کی حمایت کی ہے۔ پاکستان کی قیادت بارہا واضح کر چکی ہے کہ امن کی خواہش کمزوری نہیں بلکہ ایک ذمہ دار اور پختہ سوچ کی عکاسی ہے۔ تاہم پاکستان اپنی خودمختاری، سلامتی اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے حالیہ برسوں میں اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور دفاعی تیاریوں کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے، جس سے دنیا کو یہ پیغام ملا ہے کہ پاکستان امن پسند ملک ہے لیکن کسی بھی قسم کی جارحیت یا دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔ اسی تناظر میں مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل اور کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کی حمایت پاکستان کی پالیسی کا اہم حصہ رہی ہے۔
کشمیر کونسل ای یو کے چیئرمین نے مزید کہا کہ کشمیری عوام کو ان کے بنیادی اور جمہوری حق سے محروم نہیں رکھا جا سکتا اور عالمی برادری، خصوصاً یورپی یونین، کو اس مسئلے کے حل کے لیے زیادہ فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق جنوبی ایشیا میں دیرپا امن کا راستہ کشمیر سے ہو کر گزرتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق کاجا کالاس کا دورۂ پاکستان نہ صرف پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات کے لیے اہم ہے بلکہ یہ خطے کے وسیع تر سیاسی اور سیکیورٹی ماحول پر بھی مثبت اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ اگر اس موقع پر علاقائی تنازعات، اقتصادی تعاون اور عوامی روابط کے فروغ پر سنجیدہ پیش رفت ہوتی ہے تو یہ دونوں فریقوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو گی۔
میری رائے میں بھی پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان بڑھتے ہوئے روابط اس بات کا ثبوت ہیں کہ دونوں فریق ایک دوسرے کو اہم شراکت دار سمجھتے ہیں۔ ایسے میں مسئلہ کشمیر سمیت علاقائی امن کے معاملات پر یورپی یونین کا متوازن اور فعال کردار نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ یورپ کے طویل المدتی مفادات کے لیے بھی سودمند ثابت ہو سکتا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button