مشرقی معاشرے میں بچوں پر والدین کی توقعات

یہ مضمون مشرقی معاشروں میں والدین کی اپنی اولاد سے توقعات کے اثرات کو بیان کرتا ہے۔ خاص طور پر لڑکیوں پر ہونے والے نفسیاتی اثرات کی نشاندہی کی گئی ہے.
مشرقی معاشروں میں والدین اکثر اپنی محرومیوں اور خواہشات کی تکمیل کے لیے اپنی اولاد سے توقعات وابستہ کرلیتے ہیں۔ اولاد والدین کے لیے امید کی کرن ہوتی ہے، مگر بعض اوقات یہ امید بچوں کے لیے بوجھ بن جاتی ہے۔ ایک معروف جملہ ہے: ‘میری بڑی بیٹی تو میرا بیٹا ہے۔’ اس جملے کا اثر بظاہر محبت دکھائی دیتا ہے، لیکن یہ لڑکیوں کی شخصیت میں بگاڑ پیدا کر سکتا ہے۔ جب بچیوں کو بچپن سے اس بات کا احساس دلایا جاتا ہے کہ ان کی اصل قدر ‘بیٹا بننے’ میں ہے تو وہ اپنی فطری خصوصیات کو کمزور سمجھنا شروع کر دیتی ہیں۔ یہ صورتحال ان کی زندگیوں پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے اور وہ اپنی نسوانیت سے بیزار ہو جاتی ہیں، جو کہ ایک خطرناک نفسیاتی اثر ہے.



