یمن کے حوثیوں کی آبنائے باب المندب بند کرنے کی دھمکی

یمن کے حوثیوں نے آبنائے باب المندب کو بند کرنے کی دھمکی دی ہے، جو خلیج عدن کو بحیرہ احمر سے ملاتی ہے۔ حوثی انتظامیہ کے نائب وزیر خارجہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر امن کوششوں میں رکاوٹیں ڈالنے کا الزام عائد کیا ہے۔ اس گزرگاہ کی بندش عالمی خام تیل کی سپلائی اور تجارت کو شدید متاثر کر سکتی ہے۔
صنعا (19 اپریل 2026): یمن کے حوثیوں نے دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہ، آبنائے باب المندب کو بند کرنے کی دھمکی دی ہے۔ حوثی انتظامیہ کے نائب وزیر خارجہ نے صنعا میں جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امن کی کوششوں میں رکاوٹیں ڈالنا بند کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے باب المندب دنیا کی مصروف ترین آبی گزرگاہوں میں سے ایک ہے جو خلیج عدن کو بحیرہ احمر سے ملاتی ہے۔
یاد رہے کہ یہ آبی گزرگاہ خلیجی ممالک سے یورپ اور ایشیا کو جانے والے تیل کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے۔ عالمی خام تیل کی سپلائی کا تقریباً 5 فیصد، جو یومیہ تقریباً 40 لاکھ بیرل بنتا ہے، اسی شاہراہ سے گزرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے باب المندب کو بند کیا جاتا ہے تو عالمی تجارت کا تقریباً 10 فیصد حصہ متاثر ہوگا، کیونکہ یہ بحیرہ احمر کا داخلی راستہ ہے اور یہاں سے بحیرہ سویز (سویز کینال) تک رسائی ممکن ہوتی ہے۔ اس دھمکی سے عالمی منڈیوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔




