نسیہ ٹاور کیس: سپریم کورٹ کا فیصلہ اور ABDA کی درخواست

سپریم کورٹ نے نسیہ ٹاور کیس میں فیصلہ سنایا، جس سے ABDA کے چیرمین حسن بخشی نے فوری مکمل معاوضے کی مانگ کی۔ 8 سال کی تاخیر سے متاثرین کو شدید مالی اور ذہنی تکلیف ہوئی۔
سب سے پہلے، سپریم کورٹ نے نسیہ ٹاور کیس میں ایک تاریخی فیصلہ سنایا، جس سے یہ واضح ہوا کہ عدالت نے متاثرین کے حق میں فیصلہ کیا۔
اس فیصلے پر، ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (ABDA) کے چیرمین حسن بخشی نے خوشی کا اظہار کیا اور فوری مکمل معاوضے کی مانگ کی۔ بخشی نے بتایا کہ گزشتہ آٹھ سالوں میں متاثرین کو شدید مالی اور ذہنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، اور بعض متاثرین معاوضے کے انتظار میں انتقال کر چکے ہیں۔
بخشی نے مزید کہا کہ عدالت کے فیصلے پر نظرثانی کے باوجود، عدالت کی تاخیر نے متاثرین کے حق میں نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے عدالت سے درخواست کی کہ متاثرین کو بلافاصله مکمل معاوضہ ادا کیا جائے، تاکہ مزید ظلم اور تکلیف کا خاتمہ ہو سکے۔
یہ فیصلہ پاکستان کے قانونی نظام میں ایک اہم سنگ میل ہے، کیونکہ یہ عدالت کی عدل و انصاف کے اصولوں کی پاسداری اور عوامی اعتماد کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ ABDA اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندے عدالت کے فیصلے پر مزید توجہ دینے کا وعدہ کرتے ہیں۔




