ادویات کی قلت سے مریضوں کی زندگیاں خطرے میں

پاکستان میں کینسر، دل کے امراض، ذیابیطس اور دیگر جان لیوا بیماریوں کے علاج میں استعمال ہونے والی 100 سے زائد ضروری ادویات کی قلت نے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرایا ہے۔
پاکستان میں کینسر، دل کے امراض، ذیابیطس اور دیگر جان لیوا بیماریوں کے علاج میں استعمال ہونے والی 100 سے زائد ضروری ادویات کی قلت نے مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔
اس قلت کی بنیادی وجہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کی جانب سے دو سال قبل ارسال کردہ قیمتوں میں نظرِ ثانی کی سفارشات پر وفاقی کابینہ کی طرف سے ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہ ہو پانا ہے۔ ادویہ ساز کمپنیوں نے پیداواری لاگت بڑھنے پر پیداوار کم یا بند کردی، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں ادویات کی فراہمی متاثر ہوئی۔
ڈریپ کے مطابق، ادویات کی قیمتوں میں اضافہ اور اس کے ساتھ ہی پیداوار کے اخراجات میں اضافہ، اسمگل اور جعلی ادویات کے خطرے کو بڑھا رہا ہے۔ اس صورتحال کے باعث مریضوں کو نہ صرف ضروری دوائیں نہیں مل رہی بلکہ غیر معیاری ادویات کے استعمال سے صحت کے لیے مزید خطرات پیدا ہو رہے ہیں۔
پاکستان کیمسٹ اینڈ ڈرگسٹ ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالصمد بڈھانی نے پروگرام باخبر سویرا میں کہا کہ حکومت کو فوری طور پر ڈریپ کی سفارشات پر عمل درآمد کر کے ادویات کی قیمتوں کو مستحکم کرنے اور پیداوار کو بڑھانے کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔




