ایم ایف کا تناؤ: ایران-امریکا کشیدگی سے تیل کی عالمی سپلائی متاثر

آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی ہرمز کے عبور کی بندش کا سبب بن سکتی ہے، جس سے روزانہ دو کروڑ بیرل خام تیل اور ریفائنڈ مصنوعات کی عالمی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔ خلیجی ممالک نے متبادل راستے اپنائے، لیکن مجموعی اثر محدود رہ سکتا ہے۔
آئی ایم ایف کی تازہ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے نتیجے میں ہرمز کے عبور میں رکاوٹ آ سکتی ہے، جس سے روزانہ دو کروڑ بیرل خام تیل اور ریفائنڈ مصنوعات کی عالمی مارکیٹ میں سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ہرمز کے عبور کی بندش کے باعث خلیجی ممالک نے متبادل راستے اپنائے؛ سعودی عرب نے ریڈ سی بندرگاہ تک تیل پائپ لائن سے بھیجا، جبکہ یو اے ای نے الفجیرہ بندرگاہ کا استعمال کیا۔ تاہم، یہ متبادل ذرائع ہرمز کے نقصان کا صرف ایک چھوٹا حصہ ہی پورا کر سکے، اور خلیجی خطے میں ریفائنڈ مصنوعات کی پیداوار میں نمایاں کمی ہوئی۔
آئی ایم ایف نے مزید کہا کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو عالمی تیل کی مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافہ اور سپلائی میں کمی کا خطرہ بڑھے گا، جس سے عالمی معیشت پر اثر پڑ سکتا ہے۔




