پاکستان

نیویارک ہسپتال میں 12 سینئر نرسیں AI سے بدلیں

نیویارک کے مونٹی فیور میڈیکل سینٹر میں 12 سینئر نرسوں کو AI سافٹ ویئر سے بدل کر ملازمت سے محروم کیا گیا۔ نرسوں اور یونینز نے اس اقدام پر شدید تنقید کی، جبکہ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ AI صرف انتظامی کاموں کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔

نیویارک کے مونٹی فیور میڈیکل سینٹر میں 12 سینئر نرسوں کو ملازمت سے فارغ کر کے ان کی جگہ AI سافٹ ویئر کا استعمال کیا گیا۔ یہ فیصلہ ہسپتال کی انتظامیہ نے انتظامی اور دفتری امور کو خودکار بنانے کے مقصد سے لیا۔

متاثرہ نرسیں، جو مریضوں کے ریکارڈ کا جائزہ لے کر انشورنس کمپنیوں سے طبی اخراجات کی منظوری لیتی تھیں، کو بغیر کسی واضح وجہ کے بے روزگار کر دیا گیا۔ ان کے مطابق، AI سسٹم نے ان کے کام کو مکمل طور پر ہٹا دیا ہے جبکہ ہسپتال نے اس بات پر زور دیا کہ AI صرف انتظامی امور تک محدود ہے اور مریضوں کے براہِ راست علاج میں شامل نہیں۔

نرسوں اور ان کی یونین نے اس اقدام پر شدید اعتراض کیا، یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ انسانی مہارت اور تجربہ کسی بھی AI سسٹم سے بہتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کا قدم ملازمتوں کو خطرے میں ڈال رہا ہے اور مریضوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ انتظامیہ نے اس پر تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ مستقبل میں AI کا استعمال مزید بڑھایا جائے گا۔

یہ واقعہ صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال پر ایک اہم سوال اٹھاتا ہے: کیا AI انسانی ملازمتوں کو مکمل طور پر بدل سکتا ہے یا یہ صرف معاون ٹول ہے؟ اس کے ساتھ ہی یہ بھی واضح ہو گیا ہے کہ ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ ملازمت کی حفاظت اور اخلاقی ذمہ داریوں پر بھی غور ضروری ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button