ایران جوہری پروگرام چھوڑنے پر تیار

ایران نے 37 سال بعد پہلی بار جوہری پروگرام ترک کرنے کا اعلان کیا۔ امریکی وزیر خزانہ نے ایران پر موجود پابندیوں اور ہرمز کے بند ہونے پر بھی توجہ دی۔ اس خبر نے عالمی سطح پر سیاسی و اقتصادی اثرات پر بحث چھیڑ دی۔
ایران نے آج اعلان کیا کہ وہ 37 سال کے بعد پہلی بار اپنے جوہری پروگرام کو ترک کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس اعلان کے بعد، امریکی وزیر خزانہ اسکوت بیسنٹ نے فاکس نیوز کے ساتھ ایک گفتگو میں کہا کہ ایران پر مسلسل اقتصادی پابندیاں اور تیلی برآمدات پر پابندیوں نے اس کے فیصلہ پر اثر ڈالا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ امریکہ ہرمز کے عبور کو کھولنے اور ایران کے جوہری ذخائر کو ضبط کرنے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔ بیسنٹ کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات ایران کی سنجیدگی کو ظاہر کرتے ہیں۔ ایران کی یہ حرکت عالمی برادری میں جوہری عدم پھیلاؤ کے لیے مثبت قدم کے طور پر دیکھنے کو مل رہی ہے۔




