پاکستان
تفتیشی افسر کو 10 سال قید

پشاور عدالت میں تفتیشی افسر ہدایت اللہ کو قتل کیس میں جھوٹی گواہی اور ڈیجیٹل شواہد نہ بھجانے کے الزامات پر 10 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ عدالت نے مجرم کو فوری طور پر سینٹرل جیل پشاور منتقل کرنے کا حکم بھی دیا۔
پشاور میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج امتیاز علی کی عدالت نے تفتیشی افسر ہدایت اللہ کو قتل کے اہم ڈیجیٹل شواہد نہ بھجانے اور جھوٹی گواہی دینے کے الزامات پر 10 سال قید کی سزا سنائی۔ عدالت نے فیصلہ کرتے ہوئے مجرم کو فوراً سینٹرل جیل پشاور منتقل کرنے کا حکم بھی جاری کیا۔ اس کے ساتھ ہی مجرم کو 193 اور 186 کے تحت سزا سنائی گئی۔ عدالت نے اس فیصلے میں کہا کہ ہدایت اللہ نے مجرم کے خلاف اہم شواہد کو فرانزک لیب نہیں بھیجا، جس سے کیس کے حق میں ثبوت کمزور ہوئے۔




