پاکستان
سپریم کورٹ نے ظاہر جعفر کی سزائے موت برقرار رکھی

سپریم کورٹ نے ظاہر جعفر کی نظرثانی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی۔ فیصلہ جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سنایا۔ مجرم کے وکیل نے ٹوکسیکولوجی ٹیسٹ کی کمزوری پر اعتراض کیا۔
اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے نور مقدم قتل کیس میں مرکزی مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت کے خلاف دائر نظرثانی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے اس کی پھانسی کی سزا برقرار رکھی۔ یہ فیصلہ جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ نے طویل سماعت کے بعد سنایا۔ سماعت کے دوران مجرم کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے یہ موقف اپنایا کہ مقتولہ کا ٹوکسیکولوجی ٹیسٹ کرایا گیا لیکن مجرم کے نشے کی جانچ کا ٹیسٹ نہیں کیا گیا۔ وکیل نے اس کمزوری پر اعتراض کیا، مگر عدالت نے اس کے دلائل کو ناکافی قرار دیتے ہوئے فیصلہ برقرار رکھا۔




