پاکستانی نوجوان سائبر فراڈ مافیا کے نشانے پر

کمبڈیا میں بڑھتے ہوئے سائبر فراڈ نیٹ ورکس نے پاکستان کے نوجوانوں کو ہدف بنایا ہے۔ یہ گروپس سوشل میڈیا اور جعلی ویب سائٹس کے ذریعے جھوٹے نوکریوں اور بڑی تنخواہوں کا وعدہ کر کے افراد کو دھوکہ دیتے ہیں۔ حفاظتی رہنمائی کے ساتھ، نوجوانوں کو خبردار کیا جاتا ہے۔
کمبڈیا میں بڑھتے ہوئے سائبر فراڈ نیٹ ورکس نے پاکستان کے نوجوانوں کو ہدف بنا لیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، کئی علاقوں میں بڑے اسکام سینٹرز اور خفیہ کمپاؤنڈز قائم کیے گئے ہیں جہاں منظم انداز میں آن لائن دھوکہ دہی کا عمل چلایا جا رہا ہے۔ یہ گروپس سوشل میڈیا اور جعلی ویب سائٹس کے ذریعے پرکشش نوکریوں، بھاری تنخواہوں اور روشن مستقبل کے خواب دکھا کر افراد کو کمبڈیا بلاتے ہیں۔ متاثرین کو اکثر سرحدی شہروں، خصوصاً سیہانوکویل اور او سماچ میں لے جایا جاتا ہے، جہاں انہیں الگ تھلگ عمارتوں میں قید کر کے زبردستی آن لائن فراڈ کروایا جاتا ہے۔ اس طرح کے نیٹ ورکس میں شامل عناصر نوجوانوں کو مالی نقصان کے ساتھ ساتھ نفسیاتی دباؤ کا بھی شکار بناتے ہیں۔ حکومتی اداروں اور سکیورٹی ایجنسیوں کو اس خطرے سے نمٹنے کے لیے آگاہی پروگرام اور سخت قانون سازی کی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ غیر معتمد ذرائع سے نوکری کی پیشکش پر فوری طور پر سوال کریں اور سرکاری ذرائع سے تصدیق حاصل کریں۔




