کراچی میں کیش وین ڈکیتی میں 30 کروڑ روپے کی لوٹائی، پولیس نے ڈرائیور اور گارڈز کو حراست میں لیا

کراچی میں کیش وین سے 30 کروڑ روپے کی ڈکیتی کے بعد سینٹرل پولیس نے ڈرائیور اور دو گارڈز کو حراست میں لے لیا۔ تحقیقات میں پتا چلا کہ ڈکیتی کا ماسٹر مائنڈ چیف کریو واجد تھا۔ پولیس مزید کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے۔
کراچی میں ایک شدید ڈکیتی کے بعد پولیس نے ڈرائیور اور دو گارڈز کو حراست میں لے لیا۔ 15 جون 2026 کو شہر کے علاقے واٹر پمپ کے قریب کیش وین سے 30 کروڑ روپے کی ڈکیتی کا واقعہ رونما ہوا، جس میں ڈرائیور اور دو گارڈز کو فوری طور پر گرفتار کیا گیا۔ سینٹرل پولیس کے مطابق، ڈکیتی کے دوران ڈرائیور اور گارڈز کا سوار چاروں ملزمان، چیف کریو واجد کے ساتھ رابطے میں تھا۔ اس کے بعد کیش وین کے دروازے کو باہر سے لاک کیا گیا۔ پولیس کے ایس ایس پی نے کہا کہ حراست میں لیے گئے افراد واردات میں شامل تھے یا نہیں، ان سے تفصیلی تفتیش جاری ہے۔ تحقیقات میں معلوم ہوا کہ رقم کو ڈبل کیبن گاڑی میں منتقل کرایا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ، پولیس نے ڈکیتی کے منصوبہ بندی کے لیے چیف کریو واجد کو بھی گرفتار کیا۔ مزید معلومات کے لیے پولیس کے بیانیے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔




