پاکستان

کاویر: چترال اور گلگت بلتستان کی قیمتی جڑی بوٹی

چترال اور گلگت بلتستان کے پہاڑی علاقوں میں پائی جانے والی کاویر ایک خود رو، پھیلی ہوئی اور کانٹے دار جھاڑی نما پودا ہے جو غذائیت اور روایتی طب دونوں میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

پاکستان کے شمالی پہاڑی علاقوں، خصوصاً چترال اور گلگت بلتستان میں قدرت نے ایسی بے شمار قیمتی جڑی بوٹیاں اور خود رو پودے عطا کیے ہیں، جو نہ صرف غذائیت سے بھرپور ہیں بلکہ روایتی طب میں بھی اہم مقام رکھتے ہیں۔ ان میں سے ایک اہم نام ’’کاویر‘‘ ہے، جسے اردو میں کبر یا شلفح اور انگریزی میں Caper Bush کہا جاتا ہے۔ یہ پودا خود رو، پھیلی ہوئی اور کانٹے دار جھاڑی نما ہے، جو سخت موسمی حالات، خشک پہاڑی علاقوں اور چٹانی زمینوں پر قدرتی طور پر اُگتا ہے۔ اس کی جڑیں گہری اور مضبوط ہوتی ہیں، جو زمین کے اندر کافی گہرائی تک پہنچتی ہیں، جس سے یہ پودا شدید گرمی، خشک سالی اور پانی کی کمی کے باوجود زندہ رہ سکتا ہے۔ کاویر کے پتے اور پھول دونوں ہی خوراک میں استعمال ہوتے ہیں، جبکہ اس کے بیج اور چھوٹے پھول روایتی طب میں مختلف امراض کے علاج میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ مقامی لوگوں کا ماننا ہے کہ کاویر کے استعمال سے ہاضمے میں بہتری، جگر کی صفائی اور دیگر بیماریوں میں راحت ملتی ہے۔ مزید برآں، یہ پودا مقامی معیشت میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے، کیونکہ اس کے بیج اور پھول سے بننے والے مصنوعات کو بازار میں فروخت کیا جاتا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button