ڈیجیٹل ہراسانی نوجوانوں کے لیے سنگین خطرہ

ڈیجیٹل ہراسانی، جسے سائبر بُلنگ بھی کہا جاتا ہے، نوجوانوں کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ ہے۔ ماہر نفسیات ڈاکٹر نبیحہ نے مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال سے تصاویر اور ویڈیوز کے غلط استعمال کو خطرے کا سبب بتایا۔
ڈیجیٹل ہراسانی، جسے سائبر بُلنگ یا آن لائن بُلنگ بھی کہا جاتا ہے، انٹرنیٹ، سوشل میڈیا، ای میل یا موبائل فون کے ذریعے کسی شخص کو ڈرانے، دھمکانے یا ذہنی اذیت پہنچانے کا عمل ہے۔ کراچی کے ایک نجی ٹی وی پروگرام میں ماہر نفسیات ڈاکٹر نبیحہ نے بتایا کہ مصنوعی ذہانت (AI) اور جدید ٹیکنالوجی کے دور میں تصاویر اور ویڈیوز کے غلط استعمال کے امکانات بڑھ گئے ہیں، جس کے باعث نوجوانوں کو سوشل میڈیا کے استعمال میں غیر معمولی احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ نجی تصاویر، ویڈیوز یا ذاتی معلومات کا غیر مجاز استعمال بھی ہراسانی کے زمرے میں آتا ہے۔ ہراسانی صرف جسمانی نہیں بلکہ زبانی اور ڈیجیٹل صورتوں میں بھی سامنے آتی ہے، جس کے اثرات ذہنی صحت پر گہرے ہوتے ہیں۔ نوجوانوں کو اپنی ڈیجیٹل شناخت کو محفوظ رکھنے کے لیے مضبوط پاس ورڈز، پرائیویسی سیٹنگز اور محتاط مواد شیئرنگ کی عادت اپنانے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ والدین، اساتذہ اور حکومتی اداروں کو بھی ڈیجیٹل ہراسانی کے خلاف آگاہی اور روک تھام کے اقدامات کو مضبوط کرنا ہوگا۔




