حماس کا غزہ حکومت ختم، ٹیکنوکریٹ کمیٹی کو سپرد

حماس نے غزہ میں حکومت ختم کرنے کا اعلان کیا۔
ٹیکنوکریٹ کمیٹی کو اختیارات سونپے گئے۔
عوامی ملازمین کی خدمات جاری رہیں گی۔
حماس کے رہنماؤں نے غزہ کے اندر اپنی حکومت ختم کرنے کا اعلان کیا، جس سے یہ واضح ہوا کہ تمام انتظامی اختیارات ایک نئی ٹیکنوکریٹ کمیٹی کو سپرد کیے جائیں گے۔ اس اعلان کے مطابق، غزہ کے تمام سول سرکاری ملازمین کو ‘پبلک ورکرز’ کے طور پر شناخت کیا گیا ہے اور وہ نئی کمیٹی کے زیرِ نگرانی اپنی خدمات جاری رکھیں گے۔
حکم کے مطابق، یہ ٹیکنوکریٹ کمیٹی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ‘بورڈ آف پیس’ کی حمایت یافتہ فلسطینی کمیٹی کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔ اس کے تحت، غزہ کی انتظامیہ کو ایک جدید اور موثر ڈھانچے میں منتقل کیا جائے گا تاکہ عوامی خدمات میں بہتری اور شفافیت کو فروغ مل سکے۔
حماس کے میڈیا آفس کے ڈائریکٹر اسماعیل الثوابتہ نے کہا کہ یہ قدم فلسطین کی خود مختاری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام ملازمین کو نئی کمیٹی کے تحت کام کرنے کی مکمل تیاری ہے اور وہ اپنی ذمہ داریاں بخوبی نبھائیں گے۔
بین الاقوامی سطح پر اس اقدام پر مختلف رائے سامنے آئی ہیں۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ اقدام غزہ میں سیاسی استحکام اور اقتصادی ترقی کے لیے ایک مثبت قدم ہو سکتا ہے، جبکہ دیگر کا خیال ہے کہ اس سے موجودہ تنازعات میں مزید پیچیدگی آ سکتی ہے۔




