18ویں ترمیم کے نفاذ پر وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا موقف

وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اسلام آباد میں کہا کہ 18ویں ترمیم کے نفاذ پر ملک بھر میں مکمل عمل درآمد ضروری ہے۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ وفاقی حکومت نے فنڈز وفاقی سطح پر ہی رکھے ہیں، جبکہ مقامی سطح پر منتقلی نہیں ہوئی۔
18ویں ترمیم کا مقصد وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو خود مختار بنانا تھا، لیکن اس کا مکمل نفاذ ابھی تک نہیں ہوا۔ وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اسلام آباد میں ایک تقریب میں کہا کہ وہ اس ترمیم کے خلاف نہیں ہیں بلکہ اس کے نافذ نہ ہونے پر ناراض ہیں۔
وزیر نے واضح کیا کہ ملک بھر میں 18ویں ترمیم کا مکمل نفاذ ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی سطح پر 8,848 ارب روپے کے بجٹ کے تحت چار وزیر اعلیٰ کو فنڈز دیے گئے ہیں، مگر یہ فنڈز زیر انتظام حکمرانی کے لیے زیر زمین تک نہیں پہنچے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت نے فنڈز کو وزیر اعلیٰ کے پاس رکھا ہے، جبکہ مقامی سطح پر فنڈز کی منتقلی کے لیے کوئی واضح طریقہ کار موجود نہیں ہے۔ اس کے باعث گلیوں اور محلے کی سطح پر خود مختاری کا مقصد حاصل نہیں ہو پا رہا۔
وزیر مصطفیٰ کمال کا موقف ہے کہ 18ویں ترمیم کے نفاذ سے عوامی خدمات میں بہتری اور حکومتی شفافیت میں اضافہ ہوگا۔ وہ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پر فنڈز کی منتقلی اور مقامی حکومتوں کو مکمل اختیار دیا جائے۔




