وزیر صحت مصطفیٰ کمال: اگر پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم ایک پیج پر ہوتے

وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے حالیہ بیانیہ میں یہ سوال اٹھایا کہ اگر پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم ایک ہی صفحے پر موجود ہوتے تو پاکستان میں موجود حشر کیوں ہوتا؟ ان کے مطابق یہ سیاسی تقسیمیں اور اختلافات ملک کی ترقی میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔
اسلام آباد (8 جولائی 2026) – وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے ایک بیان میں کہا کہ اگر پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم ایک ہی صفحے پر ہوتے تو پاکستان میں حشر کیوں ہوتا۔
ARY نیوز کے مطابق وزیر نے یہ تبصرہ اپنے روزانہ کے میڈیا ریلیز کے دوران کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دو بڑے سیاسی جماعتوں کا ایک پلیٹ فارم پر متحد ہونا ملک کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے، لیکن فی الحال ان کی اختلافات اور سیاسی تنازعات کے باعث عوامی مسائل کو حل کرنے میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔
مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ اگر پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم مشترکہ طور پر کسی پلیٹ فارم پر کام کریں تو عوامی خدمات کی فراہمی میں بہتری آ سکتی ہے، کیونکہ یہ جماعتیں اپنے اپنے شعبوں میں تجربہ رکھتی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ حالیہ دور میں ملک میں حشر کے مسائل کا سبب سیاسی تقسیمیں اور عدم استحکام ہے۔
اس بیان پر مختلف سیاسی رہنماؤں نے مختلف ردعمل ظاہر کیے۔ پیپلز پارٹی کے نمائندوں نے کہا کہ وفاقی سطح پر اتحاد ضروری ہے، لیکن مقامی سطح پر خود مختاری کو بھی برقرار رکھنا چاہیے۔ ایم کیو ایم کے رہنما نے اس بات پر زور دیا کہ پارٹی کی شناخت اور اصولوں کو برقرار رکھتے ہوئے ہی تعاون ممکن ہے۔
وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے آخر میں کہا کہ پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے سیاسی جماعتوں کو مل کر کام کرنا ہوگا، تاکہ عوام کی بنیادی ضروریات کو بروقت پورا کیا جا سکے۔




