لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ: شناختی کارڈ بلاک نہیں ہو سکتا

لاہور ہائیکورٹ نے واضح کیا کہ فیملی کورٹ کسی شہری کا شناختی کارڈ بلاک نہیں کر سکتی۔ یہ فیصلہ شہریوں کے بنیادی حقوق کو تحفظ دیتا ہے۔
اس فیصلہ میں عدالت نے قومی شناختی کارڈ کی اہمیت اور اس کے بلاک کے قانونِ اساسی اثرات پر روشنی ڈالی۔
لاہور ہائیکورٹ نے آج ایک اہم قانونی فیصلہ سنایا جس کے مطابق فیملی کورٹ کسی شہری کا شناختی کارڈ بلاک نہیں کر سکتی۔
جج مزمل اختر شبیر نے شہری ناصر علی رانجھا کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ قومی شناختی کارڈ ہر شہری کی بنیادی شناخت ہے جسے کسی بھی صورت میں چھینا نہیں جا سکتا۔
ان عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ فیملی کورٹ کے کسی بھی فیصلے کو اس قانون کے خلاف نہیں سمجھا جا سکتا جو شناختی کارڈ کے بلاک کو ممنوع بناتا ہے۔
یہ فیصلہ شہریوں کے بنیادی حقوق اور قانونِ اساسی کی حفاظت کے لیے ایک مثبت قدم سمجھا جا رہا ہے۔




