نسلہ ٹاور کے مکین بے گھر، عدالت کا فیصلہ واپس

نسلہ ٹاور کی مسمار کے فیصلے کو سپریم کورٹ نے واپس لیا، جس سے مکین بے گھر رہ گئے۔ عدالت نے کہا کہ غیر قانونی تعمیرات پر کارروائی کا اختیار عدالت کا نہیں بلکہ صوبائی حکومت کا ہے۔
نسلہ ٹاور، جو کراچی کے قریبی علاقے میں واقع ہے، کی مسمار کے خلاف عدالت کا فیصلہ 10 جولائی 2026 کو واپس لیا گیا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کا اختیار عدالت کا نہیں بلکہ متعلقہ صوبائی حکومت اور مجاز اداروں کا ہے۔ اس فیصلے کے بعد، ٹاور کے مکین بے گھر رہ گئے اور ان میں سے کچھ نے اپنے گھروں کے نقصان پر اداسیاں ظاہر کیں۔
مختلف میڈیا ذرائع کے مطابق، مسمار کا فیصلہ اس وقت کیا گیا تھا جب مقامی حکام نے ٹاور کی ساخت پر شکایت کی۔ سپریم کورٹ نے فیصلہ میں واضح کیا کہ عدالتیں اپنے سامنے موجود تنازع تک محدود رہیں اور غیر ضروری معاملات میں مداخلت سے گریز کریں۔ اس کے نتیجے میں، ٹاور کی مسمار کے احکامات کو واپس لیا گیا۔
مکینوں کا کہنا ہے کہ ان کے گھر اور جائیداد کو نقصان پہنچا ہے اور وہ انصاف کے منتظر ہیں۔ اس فیصلے سے مستقبل میں غیر قانونی تعمیرات سے متعلق مقدمات پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ حکومت اور متعلقہ اداروں پر دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ ایسے معاملات میں زیادہ مؤثر کردار ادا کریں۔




