کِی ٹو ایئر ویز طیارہ حادثہ: بلیک باکس اور انجن نہیں ملے

کِی ٹو ایئر ویز کا کارگو طیارہ کراچی کے سمندر میں گر گیا۔ بلیک باکس اور انجن کی کمی کی وجہ سے تحقیقاتی ٹیم اسلام آباد واپس جا چکی۔ پاکستان بحریہ نے سمندر کی تہہ میں سرچ آپریشن شروع کیا۔
کِی ٹو ایئر ویز کا کارگو طیارہ، جو کراچی کے سمندر میں گرنے کے بعد کارگو کے ساتھ مل کر ڈوب گیا، اس کے بلیک باکس اور انجن کے فقدان کی وجہ سے تحقیقات میں رکاوٹ آ گئی۔ 11 رکنی تحقیقاتی ٹیم نے ابتدائی معائنے کے بعد بلیک باکس اور انجن نہ ملنے پر اسلام آباد روانہ ہو گئی۔
بحریہ اور پاکستان میریٹائم سیکیورٹی ایجنسی کی جانب سے سمندر کی تہہ میں ایک وسیع سرچ آپریشن کا آغاز کیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گہرے پانی میں بلیک باکس کا پچھاڑنا مشکل ہے، لیکن بحریہ کے پاس خصوصی ڈائورز اور ڈرونز موجود ہیں۔
ٹیم کے رہنما نے کہا کہ تحقیقات کے لیے بلیک باکس اور انجن کے بغیر آگے بڑھنا ناممکن ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اگر یہ اجزاء مل جاتے ہیں تو حادثے کا سبب معلوم کیا جا سکے گا۔
حکومت کے عہدیداروں نے اس حادثے پر افسوس کا اظہار کیا اور متاثرہ خاندانوں کو امداد فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔ مزید تفصیلات کے لیے ایئرکرافٹ سیفٹی انویسٹیگیشن بورڈ کے ساتھ رابطہ قائم رکھا جائے گا۔




