پاکستان

پاکستان کا افغان شہریوں کی ملک بدری کا عمل تیز کرنے کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے افغان شہریوں کے لیے دی گئی مہلت ختم کر دی اور ان کی فوری گرفتاری اور واپس وطن کے عمل کو تیز کرنے کا فیصلہ کیا۔ نئی ہدایات کے مطابق، بغیر ویزے اور سفری دستاویزات کے مقیم افغان شہریوں کو گرفتار کیا جائے گا۔ یہ اقدام ملک گیر بڑے کریک ڈاؤن کا حصہ ہے جس کا مقصد ملک سے غیر قانونی تارکین وطن کو ہٹانا ہے۔

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ افغان شہریوں کے لیے دی گئی مہلت ختم ہو چکی ہے اور ملک میں مقیم ان افراد کی فوری گرفتاری اور واپس وطن کے عمل کو تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ان ہدایات کے مطابق، بغیر ویزے اور سفری دستاویزات کے مقیم ہر افغان شہری کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے گا اور ان کی جیو ٹیگنگ کے ذریعے شناخت کی جائے گی۔ یہ اقدامات وفاقی وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ نئی ہدایات کے تحت کیے گئے ہیں، جس کا مقصد غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کو ملک سے ہٹانا اور ملک کی سلامتی کو مضبوط بنانا ہے۔

حکومت نے اس کارروائی کو ‘بڑی کریک ڈاؤن’ کے طور پر پیش کیا ہے اور اس کے لیے راولپنڈی سمیت صوبہ پنجاب کے تمام اضلاع میں انتظامی کارروائیوں کو بڑھایا گیا ہے۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ اب افغان شہریوں کو پاکستان میں رہنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اگر ان کے پاس درست قانونی دستاویزات موجود نہیں ہیں۔ ان کے پاسپورٹ اور دیگر شناختی دستاویزات کو ضبط کیا جائے گا۔

پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر قانونی مقیم افراد کی نشاندہی اور گرفتاری کے لیے مکمل طور پر فعال رہیں۔ یہ پالیسی ملک میں غیر قانونی تارکینِ وطن کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے حکومت کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے، اور اس کا مقصد پاکستان کی خودمختاری اور قومی سلامتی کو برقرار رکھنا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، تاہم حکومت نے اپنے موقف پر سختی سے قائم رہنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button