پاکستان میں غیر قانونی سگریٹ فروخت سالانہ 43 ارب روپیہ

پاکستان میں سالانہ 43 ارب روپے کے غیر قانونی سگریٹ فروخت ہو رہے ہیں۔ یہ غیر قانونی تجارت صحت پر سنگین اثرات ڈالتی ہے اور معیشت کو نقصان پہنچاتی ہے۔ حکومت کو ٹیکس سے ملنے والے 265 ارب روپے کے مقابلے میں معاشی نقصان 1800 ارب روپے تک پہنچ رہا ہے۔
پاکستان میں ہر سال 43 ارب روپے کی غیر قانونی سگریٹ فروخت ہو رہی ہے، جو صحت اور معیشت پر سنگین اثرات ڈالتا ہے۔ ملک میں 3.1 کروڑ سے زائد افراد تمباکو استعمال کرتے ہیں، جن میں سے 1.07 کروڑ باقاعدہ سگریٹ نوش ہیں۔ اس سے ہر سال 1،64،000 اموات ہوتی ہیں اور نوجوانوں میں تمباکو نوشی کا رجحان بڑھ رہا ہے۔
حکومت کو تمباکو صنعت سے تقریباً 265 ارب روپے ٹیکس ملتا ہے، لیکن اس کے مقابلے میں مجموعی معاشی نقصان 1،800 ارب روپے تک پہنچ رہا ہے۔ سائنسی شواہد سے واضح ہے کہ مارکیٹ میں موجود قانونی اور غیر قانونی دونوں قسم کے تمباکو اور نکوٹین مصنوعات انسانی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہیں، جن میں ای سگریٹ اور نکوٹین پاؤچ بھی شامل ہیں۔
غیر قانونی تجارت کے خلاف کارروائی کو مضبوط کرنے اور ٹیکس آمدنی بڑھانے کے لیے حکومت کو سخت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ عوام کی صحت کا تحفظ اور معیشت کی بہتری یقینی بنائی جا سکے۔




