17 سالہ انفلوئنسر اذان کا نکاح: حقیقت اور جھوٹ

17 سالہ انفلوئنسر اذان کا نکاح سوشل میڈیا پر وائرل ہوا، لیکن حال ہی میں اس کی اصل حقیقت پر سوالات اٹھے ہیں۔ صارفین کا دعویٰ ہے کہ یہ ایک پبلسٹی اسٹنٹ تھا۔
انفلوئنسر اذان، جو لاہور سے تعلق رکھتے ہیں، نے سوشل میڈیا پر اپنے نکاح کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کر کے وائرل ہو گئے۔ ان کے فالوورز کی تعداد 60 ہزار سے بڑھ کر 82 ہزار سے تجاوز کر گئی، اور بھارت میں بھی ان کی ویڈیوز لاکھوں بار دیکھے گئے۔
تاہم، حالیہ دنوں میں صارفین نے اس نکاح کے پیچھے چھپی حقیقت پر روشنی ڈالی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ نکاح، مہندی اور دیگر تقریبات محض ویوز اور فالوورز حاصل کرنے کے لیے رچایا گیا ایک پبلسٹی اسٹنٹ تھا۔ یہ دعویٰ سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل رہا ہے اور کئی صارفین نے اس کی تصدیق کے لیے مزید ثبوت مانگے ہیں۔
اذان نے اپنی طرف سے کوئی واضح جواب نہیں دیا، مگر انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کی ویڈیوز حقیقی ہیں اور انہوں نے کسی بھی قسم کی فریب نہیں کی۔
یہ واقعہ سوشل میڈیا پر مقبولیت کے لیے کیے جانے والے ڈھونگوں اور حقیقی زندگی کے واقعات کے درمیان فرق کو واضح کرتا ہے۔ میڈیا اور عوام دونوں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے تاکہ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی معلومات کی تصدیق کی جا سکے۔




