سپریم کورٹ کا فیصلہ: تعلیمی اداروں میں جنسی ہراسانی روک

سپریم کورٹ نے تعلیمی اداروں میں خواتین اساتذہ پر ہونے والی جنسی ہراسانی کو روکنے کے لیے فیصلہ سنایا۔ عدالت نے کہا کہ ہراسانی برداشت کرنے والا ادارہ اپنے تعلیمی مشن کو ناکام کرتا ہے۔
سپریم کورٹ نے 14 جولائی 2026 کو ایک اہم فیصلہ سنایا جس کا مقصد تعلیمی اداروں میں خواتین اساتذہ پر ہونے والی جنسی ہراسانی کے واقعات کو روکنا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ جو ادارہ اس طرح کی ہراسانی کو برداشت کرتا ہے، وہ اپنے تعلیمی مشن کو نقصان پہنچاتا ہے۔
یہ فیصلہ دو رکن بینچ، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی کی زیرِ نگرانی سنایا گیا۔ عدالت نے گورنمنٹ اسپیشل ایجوکیشن سینٹر فیصل آباد کے گریڈ 17 افسر کے خلاف ہراسانی کیس کا جائزہ لیا اور ٹریبونل کے فیصلے کو کالعدم قرار دے کر ملزم پر پانچ سالہ سزائے قید کا حکم دیا۔
قانونی حکمت عملی کے مطابق، سپریم کورٹ نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیمی اداروں کو ہراسانی کے خلاف سخت اقدامات اٹھانے چاہئیں اور کسی بھی قسم کی خلاف ورزی کو برداشت نہیں کرنا چاہیے۔ یہ فیصلہ تعلیمی اداروں میں خواتین کے حقوق کو مضبوط بنانے اور ایک محفوظ تعلیمی ماحول یقینی بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔




