سابق فوجی افسر گرفتار: ضیاء الرحمان کے قتل کا کیس

ڈھاکا میں سابق فوجی افسر مظفر حسین کو ضیاء الرحمان کے قتل میں ملوث ہونے کا الزام لگا کر گرفتاری کی گئی۔
یہ کیس 45 سال پرانا ہے اور اس کے حل کے لیے نئی شواہد سامنے آئے ہیں۔
ڈھاکا، 17 جولائی 2026 – بنگلہ دیشی پولیس نے سابق فوجی افسر مظفر حسین کو 45 سال پہلے ہونے والے سابق صدر ضیاء الرحمان کے قتل میں ملوث ہونے کا الزام لگا کر گرفتار کیا۔
چیف ڈیٹیکٹو پولیس محمد شفیق الاسلام نے اعلان کیا کہ مظفر حسین کو ڈھاکا ایئرپورٹ پر اترتے ہی حراست میں لے لیا گیا اور ابتدائی تفتیش میں انہوں نے قتل میں اپنی شرکت کا اعتراف کر دیا۔
سابق صدر ضیاء الرحمان کو مئی 1981 میں چٹاگانگ میں ایک فوجی بغاوت کے دوران قتل کر دیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے یہ کیس کئی دہائیوں تک حل نہ ہونے کے باعث عوام میں بے چینی کا باعث رہا۔
حکومت نے اس گرفتاری میں اہم کردار ادا کیا اور بتایا کہ گزشتہ سالوں میں حاصل کردہ معلومات نے اس کے خلاف کارروائی ممکن بنائی۔
پولیس نے کہا کہ مزید تحقیقات جاری ہیں اور متعلقہ حکام اس معاملے کو مکمل طور پر حل کرنے کا عہد کرتے ہیں۔




