پی ٹی آئی رہنما عمر ایوب کو عدالت میں غیر موجود قرار، گرفتاری

اسلام آباد کی سیشن کورٹ میں پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما عمر ایوب کو عدالت میں غیر حاضر قرار دیا گیا اور اس پر دائمی گرفتاری کا حکم جاری کیا گیا۔ عدالت نے اس کے عدالت میں نہ آنے کو قانون سے فرار قرار دیا۔
اسلام آباد: پاکستان تحریکِ انصاف کے مرکزی رہنما عمر ایوب کو 26 نومبر کے احتجاجی کیس کے سلسلے میں عدالت میں غیر حاضر قرار دیتے ہوئے دائمی گرفتاری کا حکم جاری کیا گیا۔
اسلام آباد کی سیشن کورٹ میں مجسٹریٹ شائستہ کنڈی نے عدالت کی جانب سے جاری کردہ متعدد نوٹس اور احکامات کے باوجود عمر ایوب کے عدالت میں پیش نہ آنے کو قانون سے فرار کے مترادف قرار دیتے ہوئے انہیں اشتہاری قرار دیا۔
عدالت کے مطابق، عدالت میں نہ آنے سے قانون کی پابندی سے انکار اور عدالت کے احکامات کی خلاف ورزی ظاہر ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں عدالت نے دائمی وارنٹ گرفتاری کا حکم جاری کیا، جس کا مقصد عمر ایوب کو عدالت میں پیش کر کے مقدمے کا فیصلہ سنانا ہے۔
پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں نے اس فیصلے پر احتجاج کیا اور عدالت میں انصاف کے لیے مطالبہ کیا۔
یہ اقدام پاکستان کی سیاسی صورتحال میں ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں عدالت کا فیصلہ عوامی رائے اور سیاسی طاقت کے توازن پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔




