پاکستان

پاکستان میں مینول سرنجز پر مکمل پابندی

پاکستان میں مینول سرنجز پر مکمل پابندی۔ وفاقی حکومت کا فیصلہ صحت عامہ کے تحفظ کے لیے 1 جنوری 2027 سے نافذ۔ آٹو لاک سرنجز ہی بازار میں رہیں گے، انسولین سرنجز پر اثر نہیں۔

اسلام آباد، 18 جولائی 2026 – وفاقی حکومت نے صحت عامہ کے تحفظ کے لیے ایک اہم فیصلہ کیا، جس کے تحت ملک بھر میں 10 سی سی سے کم حجم کی مینول سرنجز کی تیاری، درآمد اور فروخت پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے 1 جنوری 2027 سے نافذ ہونے والا حکومتی حکم نامہ جاری کیا، جس میں آزاد کشمیر، گلگت‑بلتستان اور تمام صوبائی حکومتوں، سرنج ساز کمپنیوں اور امپورٹرز کو پابندی کی تفصیلات بھیجی گئیں۔

حکم کے مطابق، مارکیٹ میں صرف آٹو لاک سرنجز فروخت ہو سکیں گے، جبکہ انسولین سرنجز پر اس پابندی کا اطلاق نہیں ہوگا۔ یہ اقدام پہلے سے نافذ شدہ 2 سی سی اور 5 سی سی کی مینول سرنجز پر پابندی کو مکمل کرتا ہے۔

ڈریپ کے مطابق، یہ قدم مریضوں کی حفاظت اور جراثیمی خطرات کو کم کرنے کے لیے ضروری ہے۔ حکومت نے اس فیصلے کو عوامی سلامتی اور صحت کے معیار کو بلند کرنے کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button