پاکستان

دل کی سمت پر برطرفی: سندھ ہائیکورٹ نے اسٹیٹ بینک کی کاروائی معطل کی

کراچی میں ایک غیر معمولی قانونی مقدمہ سامنے آیا جہاں ایک خاتون کو دل کی سمت کے سبب نوکری سے برطرف کیا گیا۔ سندھ ہائیکورٹ نے برطرفی معطل کی اور اسٹیٹ بینک کو فوری تربیت کی ہدایت دی۔

کراچی کے ایک شعبے میں ایک حیران کن قانونی کیس سامنے آیا۔ 28 سالہ ایمان گلزار، جو اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں ملازمت کرتی تھیں، کو دل کی سمت بائیں کے بجائے دائیں ہونے کی وجہ سے نوکری سے برطرف کیا گیا۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق، یہ ان کی طبی خصوصیت تھی جسے ادارے نے ملازمت کے معاہدے کے تحت مسترد کیا۔ ایمان گلزار نے سندھ ہائیکورٹ کے آئین کے آئینی بینچ سے رجوع کیا۔ عدالت نے اس کے برطرفی کے حکم کو معطل کیا اور اسٹیٹ بینک کو ہدایت دی کہ وہ فوری طور پر ان کی تربیت کے لیے انتظامات کرے۔ یہ فیصلہ نہ صرف برطرفی کو معطل کرتا ہے بلکہ ادارے کو ملازم کی قابلیت اور صحت کے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب تربیت فراہم کرنے کا بھی حکم دیتا ہے۔ اس طرح کا فیصلہ معاشرتی اور قانونی سطح پر ایک اہم پیغام بھی دیتا ہے کہ ملازمین کی ذاتی اور طبی خصوصیات کو ملازمت کے معیار کے ساتھ متوازن طریقے سے دیکھنا ضروری ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button