انٹر نیشنل

ایران کے خلاف جنگ: مشرقِ وسطیٰ ایک نئے تاریخی موڑ پر

یورپی یونین کے لیے بھی یہ صورتحال نہایت پیچیدہ ہے

 

 

 

ایران کے خلاف جنگ: مشرقِ وسطیٰ ایک نئے تاریخی موڑ پر

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر تاریخ کے ایک خطرناک موڑ پر کھڑا ہے۔ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں نے پورے خطے کو جنگ کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ جنگ کے صرف چند دنوں میں ہی صورتحال اس قدر پیچیدہ ہو چکی ہے کہ عالمی طاقتیں، توانائی کی منڈیاں، عالمی معیشت اور بین الاقوامی سفارت کاری سب اس کے اثرات محسوس کر رہے ہیں۔

ایران کے خلاف جاری جنگ ساتویں روز میں داخل ہو چکی ہے اور اس دوران میزائل حملے، ڈرون کارروائیاں اور فضائی بمباری کا سلسلہ جاری ہے۔ ایران نے اسرائیل کے خلاف میزائلوں اور ڈرونز کی متعدد لہریں داغی ہیں جبکہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے اندر فوجی تنصیبات، میزائل مراکز اور اسٹریٹجک اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

جنگ کے ابتدائی دنوں میں ہی ہزاروں افراد بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ ہلاکتوں کی تعداد بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ انسانی بحران کے ساتھ ساتھ عالمی ادارے اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ اگر جنگ مزید پھیلتی ہے تو یہ پورے مشرقِ وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔

یہ جنگ محض دو ممالک کے درمیان روایتی فوجی تصادم نہیں بلکہ اس کے پیچھے کئی دہائیوں پر محیط جغرافیائی اور سیاسی کشمکش موجود ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان دشمنی کوئی نئی بات نہیں، لیکن اس مرتبہ صورتحال اس لیے زیادہ خطرناک ہو گئی ہے کیونکہ امریکہ براہ راست اس جنگ میں شامل دکھائی دیتا ہے۔

امریکی سیاست میں ایران ہمیشہ ایک حساس مسئلہ رہا ہے۔ واشنگٹن طویل عرصے سے ایران کے جوہری پروگرام اور اس کے علاقائی اثر و رسوخ کو اپنے مفادات کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔ دوسری طرف ایران خود کو خطے میں مزاحمت کی قوت کے طور پر پیش کرتا ہے اور اسرائیل کو اپنا سب سے بڑا مخالف قرار دیتا ہے۔

اس جنگ کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ صرف ایران اور اسرائیل تک محدود نہیں رہی۔ عراق، شام، لبنان اور خلیجی خطے میں موجود مختلف مسلح گروہ بھی اس تنازعے کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ اگر یہ رجحان جاری رہا تو یہ جنگ آسانی سے ایک وسیع علاقائی جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

اس صورتحال کا سب سے بڑا اثر عالمی معیشت پر پڑ سکتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ دنیا کی توانائی سپلائی کا مرکز ہے اور اگر جنگ کے باعث تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو اس کے اثرات یورپ، ایشیا اور امریکہ تک محسوس کیے جائیں گے۔ آبنائے ہرمز خاص طور پر ایک ایسا اسٹریٹجک مقام ہے جہاں سے دنیا کے تیل کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اگر یہاں کشیدگی بڑھی تو عالمی توانائی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔

یورپی یونین کے لیے بھی یہ صورتحال نہایت پیچیدہ ہے۔ ایک طرف یورپ امریکہ کا اتحادی ہے اور دوسری طرف وہ مشرقِ وسطیٰ میں استحکام کا خواہاں ہے کیونکہ کسی بھی بڑے تنازعے کے نتیجے میں مہاجرین کا ایک نیا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ یوکرین جنگ کے بعد یورپ پہلے ہی معاشی اور توانائی کے دباؤ کا شکار ہے۔

اس جنگ کے حوالے سے سب سے بڑا خدشہ جوہری ہتھیاروں کا ہے۔ اگرچہ کسی بھی فریق نے اب تک جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا اعلان نہیں کیا، لیکن عالمی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر جنگ شدت اختیار کرتی ہے تو یہ خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

امریکہ کے لیے بھی یہ جنگ آسان نہیں ہوگی۔ افغانستان اور عراق کی طویل جنگوں کے بعد امریکی عوام میں بیرونی فوجی مداخلت کے حوالے سے تھکن پائی جاتی ہے۔ اگر ایران کے خلاف جنگ طویل ہوتی ہے تو اس کے سیاسی اور معاشی اثرات امریکہ کے اندر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

ایران کے پاس بھی وسیع میزائل پروگرام اور خطے میں اتحادی گروہوں کا ایک نیٹ ورک موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف مکمل جنگ پورے خطے کو عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتی ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ یہاں شروع ہونے والی جنگیں اکثر طویل اور پیچیدہ ہو جاتی ہیں۔ عراق جنگ، شام کی خانہ جنگی اور یمن کا تنازعہ اس کی واضح مثالیں ہیں۔ اس لیے ایران کے خلاف موجودہ جنگ کے مستقبل کے بارے میں یقین سے کچھ کہنا مشکل ہے۔

اس تمام صورتحال میں سفارت کاری کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اگر عالمی طاقتیں فوری طور پر مذاکرات اور جنگ بندی کی کوششیں نہیں کرتیں تو یہ جنگ نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک بڑے بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کا مستقبل اس بات پر منحصر ہوگا کہ آیا عالمی قیادت اس تنازعے کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے میں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں۔ اگر ایسا نہ ہوا تو آنے والے مہینے دنیا کے لیے انتہائی غیر یقینی اور خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button