پاکستان

ٹیلی کام بل 2026 پر عوامی احتجاج

ٹیلی کام کمپنیوں کو ٹاور لگانے کی اجازت دینے والا بل 2026 پاکستان میں عوامی احتجاج کا باعث بنا۔ شہریوں نے اسے جائیداد پر قبضے اور آئین کی خلاف ورزی قرار دیا۔ قانون سازی پر مباحثے جاری ہیں۔

پاکستانی حکومت کے زیرِ کار ٹیلی کام ترمیمی بل 2026 کے تحت ٹیلی کام کمپنیوں کو کسی بھی نجی یا سرکاری عمارت پر بغیر اجازت ٹاورز لگانے اور آپٹیکل فائبر نصب کرنے کی مجوزہ اجازت دی گئی ہے۔ اس قانون سازی کو عوام نے شدید ردعمل کا مظاہرہ کیا، یہ کہتے ہوئے کہ یہ آئینی حقوق کی سنگین خلاف ورزی اور شہریوں کی جائیدادوں پر زبردستی قبضے کی قانونی شکل ہے۔ 2026 کے بل کی مخالفت میں شہریوں نے سڑکوں پر احتجاج، سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگز اور قانون سازوں کے خلاف خط و کتابت کی۔ قانون سازی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ بل ٹیکنالوجی انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے اور ملک کی ڈیجیٹل ترقی کو تیز کرنے کے لیے ضروری ہے۔ تاہم، مخالفین کا دعویٰ ہے کہ بغیر اجازت ٹاورز اور فائبر کی تنصیب سے جائیداد کی قیمتوں پر منفی اثر پڑے گا اور عوامی جگہوں پر اس کے اثرات پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔ موجودہ صورتحال میں، حکومت نے اس قانون پر مزید بحث و مباحثے کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی ہے تاکہ عوامی خدشات کو دور کیا جا سکے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button