پاکستان

لکھیے: ہائیکورٹ نے شناختی کارڈ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا

لکھیے ہائیکورٹ نے شہری کے شناختی کارڈ کے بحال کرنے کے فیصلے کو کالعدم قرار دے کر دعویدار پر شہریت ثابت کرنے کی ذمہ داری ڈالی۔

لکھیے ہائیکورٹ نے 24 جون 2026 کو ایک اہم فیصلہ سنایا جس میں شہری کے شناختی کارڈ کے بحال کرنے کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا گیا۔ یہ فیصلہ اس صورت میں سنایا گیا تھا جب شہری نے اپنی شناختی کارڈ کو بحال کرنے کے لئے نادرا کے ذریعے اپیل کی تھی۔ عدالت نے واضح کیا کہ شہریت ثابت کرنے کی ذمہ داری دعویٰ کرنے والے شخص پر ہے، اور اگر وہ اپنے والد اور دادا کی پاکستانی شہریت کے شواہد پیش نہیں کرتا تو اس کا دعویٰ ناکام رہتا ہے۔ فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ صرف شناختی کارڈ کا اجرا شہریت کا ناقابل تردید ثبوت نہیں ہے۔ اس کے بجائے، شہری کو اپنے خاندان کے افراد کی شہریت کے ثبوت بھی فراہم کرنے ہوں گے۔ عدالت کے جج محسن اختر کیانی نے 14 صفحات پر مشتمل یہ فیصلہ جاری کیا اور اس میں واضح کیا کہ شناختی کارڈ کے بحال کرنے کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کا مقصد شہریوں کو اپنی شہریت کے بارے میں مزید شفافیت اور ذمہ داری کا احساس دلانا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button