پاکستان
سپریم کورٹ نے کہا: جعلی ادویات کے لیے لائسنس نہیں ملے گا

سپریم کورٹ نے فیصلہ کیا کہ جعلی ادویات بنانے والوں کو لائسنس نہیں ملے گا۔ عدالت نے الزام لگانے والے ملزمان کی ضمانتیں ملتوی کیں اور مزید شواہد طلب کئے۔
سپریم کورٹ میں ایک سماعت کے دوران، عدالت نے واضح کیا کہ پاکستان میں جعلی ادویات کے پیدا کرنے والوں کو لائسنس جاری نہیں کیا جائے گا۔ عدالت نے ملزمان کی قبل از گرفتاری ضمانتوں کو روک کر وفاقی تحقیقاتی ادارے سے مکمل ریکارڈ طلب کیا، اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے وکیل کو مزید ٹھوس شواہد پیش کرنے کی ہدایت کی۔ اس فیصلہ کے بعد، ڈریپ کے وکیل اور سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان غیر قانونی طور پر جعلی ادویات تیار کر کے عوام کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ سپریم کورٹ کے اس موقف سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت اور عدالتیں عوامی صحت کی حفاظت کے لیے سخت اقدامات کر رہی ہیں۔




