آڈٹ رپورٹ: ممبران پارلیمنٹ کے صوابدیدی فنڈز میں بے قاعدگیاں بے نقاب

آڈیٹر جنرل کی مالی سال 2025-26 کی رپورٹ میں ظاہر ہوا کہ ممبران پارلیمنٹ کو مختص 75 ارب روپے کے صوابدیدی فنڈز کا استعمال بے ضابطگیوں کا شکار رہا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کابینہ ڈویژن نے ماہانہ رپورٹس مرتب نہیں کیں اور فنڈز کے اصل مقصد کا پتہ نہیں چلا۔
آڈیٹر جنرل کی مالی سال 2025‑26 کی آڈٹ رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ ممبران پارلیمنٹ کے صوابدیدی فنڈز میں بنیادی اصولوں کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، کابینہ ڈویژن نے 75 ارب روپے کے فنڈز کے اصل مقصد کے استعمال پر مناسب نگرانی نہیں کی اور ماہانہ رپورٹس بھی مرتب نہیں کیں۔ اس بے ضابطگی کے باعث پچھلے علاقوں کی ترقی کے منصوبوں میں خرابی آئی اور عوامی وسائل کا صحیح استعمال نہیں ہو سکا۔ آڈیٹر جنرل نے واضح کیا کہ یہ فنڈز مخصوص منصوبوں اور ترقیاتی سرگرمیوں کے لیے مختص تھے، لیکن ان کا استعمال بے ترتیب ہوا۔ اس رپورٹ کے بعد حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ کابینہ ڈویژن کو بہتر طریقے سے سنبھالے اور مستقبل میں اس طرح کی بے قاعدگیاں روکنے کے لیے سخت ضوابط وضع کرے۔




