پاکستانی نژاد نوجوان سیاستدان علی حسنین اندرلیخت کے شہریوں اور تاجروں کی آواز بن گئے

اندرلیخت کے شہری صرف وعدے نہیں بلکہ اپنے مسائل کا عملی حل چاہتے ہیں– علی حسنین
برسلز (خصوصی رپورٹ) — بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز کی بلدیہ اندرلیخت میں پاکستانی نژاد نوجوان سیاستدان، کمیونل کونسلر اور پولیس ایڈوائزر علی حسنین نے مقامی رہائشیوں اور کاروباری برادری کو درپیش مسائل بھرپور انداز میں بلدیاتی کونسل کے سامنے اٹھاتے ہوئے شہریوں کی آواز بننے کا عملی مظاہرہ کیا۔
علی حسنین نے اندرلیخت کے معروف اسکوائر رابرٹ پیکور (Square Robert Pecqueur) میں امن و امان، صفائی، شہری سکون اور عوامی تحفظ سے متعلق شکایات پر بلدیاتی کونسل کے اجلاس میں کالج آف میئر اینڈ ایلڈرمین کی توجہ مبذول کرائی اور فوری اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ علاقے میں نصب عوامی نشستوں کے غیر مناسب استعمال کے باعث مقامی رہائشیوں اور دکانداروں کو مسلسل مشکلات اور پریشانیوں کا سامنا ہے، جس سے نہ صرف کاروباری ماحول متاثر ہو رہا ہے بلکہ شہریوں میں عدم تحفظ کا احساس بھی بڑھ رہا ہے۔
علی حسنین نے واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کا تحفظ، ان کا سکون اور بہتر معیارِ زندگی ہر صورت اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ انہوں نے بلدیاتی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ ان نشستوں کو ہٹانے کے امکان کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے تاکہ عوامی مقامات کو دوبارہ شہریوں کے لیے پُرسکون اور محفوظ بنایا جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک منتخب کونسلر کی حیثیت سے ان کی بنیادی ذمہ داری عوام کی آواز متعلقہ اداروں تک پہنچانا، ان کے مسائل اجاگر کرنا اور انتظامیہ سے محض وعدوں کے بجائے عملی اقدامات کا مطالبہ کرنا ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اندرلیخت کو مزید صاف ستھرا، محفوظ اور رہائش کے لیے بہتر علاقہ بنانے کی کوششیں جاری رکھیں گے۔
پاکستانی نژاد نوجوانوں کی مقامی سیاست میں فعال شرکت ایک مثبت پیش رفت
علی حسنین کی جانب سے مقامی شہریوں اور کاروباری طبقے کے مسائل بلدیاتی سطح پر اٹھانا اس بات کی اہم مثال ہے کہ پاکستانی نژاد نوجوان سیاستدان بیلجیئم کے جمہوری اور بلدیاتی نظام میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
سیاسی و سماجی اعتبار سے ان کی یہ کوشش اس لیے بھی اہم ہے کہ مقامی سیاست کی اصل کامیابی شہریوں کے روزمرہ مسائل کو سمجھنے، ان کی نمائندگی کرنے اور متعلقہ اداروں کو جواب دہ بنانے میں پوشیدہ ہے۔
علی حسنین جیسے نوجوان نمائندوں کی فعالیت پاکستانی کمیونٹی کے لیے بھی حوصلہ افزا مثال بن سکتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستانی نژاد نوجوان مقامی سیاست، سماجی خدمت اور عوامی نمائندگی کے شعبوں میں آگے بڑھیں اور اپنی صلاحیتوں کو وسیع تر معاشرے کی بہتری کے لیے بروئے کار لائیں۔
تاہم اس اقدام کی عملی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ اندرلیخت کی بلدیاتی انتظامیہ ان مطالبات پر کیا فیصلہ کرتی ہے اور مقامی رہائشیوں اور تاجروں کو کس حد تک حقیقی ریلیف فراہم کیا جاتا ہے۔
علی حسنین کا پیغام واضح ہے: اندرلیخت کے شہری صرف وعدے نہیں بلکہ اپنے مسائل کا عملی حل چاہتے ہیں، اور ان کی آواز بلدیاتی ایوانوں میں مسلسل بلند ہوتی رہے گی۔




