ہم مسئلہ کشمیر کو دنیا کے سامنے اجاگرکرتے رہیں گے، یوم استحصال پر بلجئیم میں مقررین کا خطاب
ہم اُن کشمیری ماؤں کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے اپنے بیٹوں کی قربانیاں دیں - علی رضا سید چیئرمین کشمیرکونسل ای ی



برسلز -( امن نیوز انٹرنیشنل) بلجیم کے دارالحکومت برسلز میں ایک روزہ کانفرنس کے دوران مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ ہم مسئلہ کشمیر کو دنیا کے سامنے اجاگر کرتے رہیں گے اور کشمیریوں کے حقوق خاص طور حق خودارادیت کی حمایت جاری رکھیں گے۔
کانفرنس کا انعقاد پانچ اگست کے یوم استحصال (یوم سیاہ) کے حوالے سے کشمیرکونسل ای یو نے یورپی پریس کلب برسلز میں کیا جس میں دانشوروں، ماہرین اور معاشرے کے دیگر طبقات سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔ ee
کانفرنس سے چیئرمین کشمیرکونسل ای یو علی رضا سید، سفارتخانہ پاکستان بلجیم کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن فیصل فیاض اور ورلڈ کشمیر ڈائس پورہ الائنس یورپ کے صدر چوہدری خالد جوشی نے خطاب کیا۔ اس دوران سفارتخانہ کے قونصلر اسد عباس اعوان نے صدر پاکستان کا پیغام اور پریس قونصلر صغیر احمد وٹو نے وزیراعظم پاکستان کا پیغام پڑھ کر سنایا۔ پروگرام کے دوران نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار کا ویڈیو پیغام بھی پیش کیا گیا۔ نظامت کے فرائض پاکستان پریس کلب بلجیم کے صدر چوہدری عمران ثاقب نے انجام دیئے۔
چیئرمین کشمیرکونسل ای یو علی رضا سید نے آزاد کشمیر کی صورتحال کے بارے میں کہاکہ آزادکشمیر کے تمام داخلی ایشوز کے باوجود ہم مقبوضہ جموں و کشمیر کے اپنے بھائیوں اور بہنوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کو ہرگز فراموش نہیں کر سکتے۔ ہمیں تاریخ کے وہ سیاہ ابواب ہمیشہ یاد رکھنے چاہییں جب 27 اکتوبر 1947 کو بھارت نے اپنی فوجیں جموں و کشمیر میں اتار کر اس کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کیا اور اسی طرح 5 اگست 2019 کو بھارت نے یکطرفہ طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر کی اپنے آئین میں خصوصی حیثیت ختم کر کے اس خطے کی متنازع حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ جموں و کشمیر کا تنازع اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ایک تسلیم شدہ بین الاقوامی تنازع ہے، جس کا حتمی فیصلہ کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے۔
اس بھارتی اقدام نے نہ صرف کشمیری عوام کے بنیادی حقوق کو متاثر کیا بلکہ خطے میں امن و استحکام کے حوالے سے بھی سنگین خدشات پیدا کیے۔
علی رضا سید نے کہاکہ گزشتہ کئی دہائیوں سے کشمیری عوام اپنے بنیادی حقِ خودارادیت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، لیکن بھارت کی طرف سے انہیں مسلسل سیاسی جبر، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور مختلف پابندیوں کا سامنا ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آزاد جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال کا حل صبر و تحمل، باہمی افہام و تفہیم، قانون کی حکمرانی اور جمہوری اقدار کے دائرے میں رہتے ہوئے تلاش کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام کے تحفظات اور جائز مطالبات کو مذاکرات کے ذریعے پرامن انداز میں حل کرنا نہایت ضروری ہے۔ علی رضا سید نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سماجی طور پر متحد اور سیاسی طور پر مستحکم آزاد کشمیر ہی مسئلۂ کشمیر کو عالمی سطح پر زیادہ مؤثر انداز میں پیش کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
اپنے تقریر میں ڈپٹی ہیڈ آف مشن فیصل فیاض نے کہاکہ آج ہم یہاں محض ایک دن منانے کے لیے جمع نہیں ہوئے، بلکہ ہم ایک ایسے خطے کے عوام کے ساتھ اپنی وابستگی، یکجہتی اور عہدِ وفا کا اظہار کرنے کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں، جن کی قربانیاں، جدوجہد اور امیدیں ہماری مشترکہ تاریخ کا اہم حصہ ہیں۔
انہوں نے کہاکہ پانچ اگست یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر، ہم اُن کشمیری ماؤں کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے اپنے بیٹوں کی قربانیاں دیں؛ اُن بہنوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے صبر اور حوصلے کی مثال قائم کی؛ اور اُن بچوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے خوف اور بے یقینی کے ماحول میں بھی بہتر مستقبل کی امید کو ہمیشہ زندہ رکھا۔
انہوں نے کہا کہ پانچ اگست 2019 محض ایک تاریخ نہیں؛ یہ ایک ایسا دن ہے جس نے جموں و کشمیر کے تنازع کو ایک نئے اور تشویشناک مرحلے میں داخل کیا۔ اس روز کیے گئے یکطرفہ بھارتی اقدامات نے کشمیری عوام کے حقوق اور خطے کے امن سے متعلق سنگین سوالات پیدا کیے۔ لیکن ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ کوئی بھی یکطرفہ اقدام جموں و کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ پاکستان کشمیریوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا اور کشمیریوں پر بھارتی مظالم کو اجاگر کرتا رہےگا۔
ورلڈ کشمیر ڈائس پورہ الائنس یورپ کے صدر چوہدری خالد جوشی نے کہاکہ میں سمجھتا ہوں کہ آزاد جموں و کشمیر کا امن، استحکام اور اتحاد پورے کشمیر کاز کے لیے ناگزیر ہے۔ اگر آزاد کشمیر میں سیاسی ہم آہنگی، عوامی اعتماد اور پرامن ماحول قائم ہوگا تو ہم عالمی برادری کے سامنے مسئلہ کشمیر کو زیادہ مؤثر، منظم اور قابلِ اعتماد انداز میں پیش کر سکیں گے۔ اس لیے تمام سیاسی قوتوں، ریاستی اداروں اور عوام کے نمائندوں کو ذمہ داری، تحمل اور دوراندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مشترکہ مفاد کو ترجیح دینی چاہیے۔
انہوں نے کہاکہ پانچ اگست آج کے دن ہم ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ ہم مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے حقِ خودارادیت، انسانی وقار اور بنیادی حقوق کی حمایت جاری رکھیں گے۔ ساتھ ہی ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ آزاد جموں و کشمیر میں امن، انصاف، اتحاد اور باہمی اعتماد کا فروغ ہی تحریکِ آزادیٔ کشمیر کو مزید مضبوط اور مؤثر بنانے کا بہترین ذریعہ ہے۔
مقررین نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے دکھ درد ،ان کی انتھک جدوجہد اور حق خودارادیت کی کاوشوں کو کبھی فراموش نہیں کریں گے – تمام شرکاء نے عہد کیا کہ ہم سب پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم کشمیری عوام کی آواز کو دنیا تک پہنچائیں، حقائق کو اجاگر کریں اور امن و انصاف اور انسانی وقار کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کریں۔
اس موقع پر مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے خاص طور کشمیریوں پر بھارتی مظالم کے بارے میں ایک دستاویزی فلم بھی پیش کی گئی



