پاکستان

پراپرٹی فائلوں میں فراڈ کیخلاف حکومت کا سخت ایکشن، وزیراعظم نے احکامات جاری کردیے

ملک میں پراپرٹی فائلوں اور پلاٹس سے متعلق فراڈ کے خلاف حکومت سخت ایکشن لینے جا رہی ہے، اس سلسلے میں وزیراعظم نے اعلیٰ سطح کی کمیٹی قائم کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔

As healthcare continues to evolve, the integration of mental health into general Eszopiclone Lunesta Buy Online health care represents a shift Xanax Online toward more holistic treatment approaches. Patients and caregivers must be informed Order Soma Online about the signs Valium 10Mg Buy Online of functional decline and the importance of maintaining an active lifestyle. Investigating how these factors differ across Ambien Discount populations can Purchase Klonopin Online provide valuable insights that improve public health strategies and individualized care. Recent research suggests that genetic variations can influence how individuals metabolize Purchase Xanax Without Prescription certain drugs, which can affect both efficacy and side effects. Simple measures, such as avoiding exposure to tobacco smoke or improving ventilation in the home, can go a long way in protecting lung health. By incorporating biological, psychological, and environmental factors, clinicians Klonopin Overnight Shipping can develop more effective treatment plans that address the full Valium No Rx spectrum of a patient's health. Research has shown Zopiclone Overnight Shipping that technology can play a significant role in improving adherence to Prednisone For Sale Online clinical pathways. It refers to the time it takes for the Ambien Online Ordering concentration of a drug in the bloodstream to Ambien Buy Online reduce by half. In clinical practice, it is vital to consider the individual Ambien Without Prescription patient journey.

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت نے پراپرٹی فائلوں، پلاٹس، ولاز اور اپارٹمنٹس کی خرید و فروخت کی قانونی حیثیت کا جامع جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کی  کمیٹی تشکیل دیدی ہے، جو فراڈ، ٹیکس چوری اور سرمایہ کاروں کے تحفظ سے متعلق بڑھتے خدشات کے پیش نظر قائم کی گئی ہے۔ اس کا مقصد رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں شفافیت کو فروغ دینا ہے۔

سرکاری نوٹی فکیشن کے مطابق کمیٹی کی سربراہی وزیر قانون و انصاف کریں گے جب کہ چیئرمین ایف بی آر، تمام صوبوں کے سینئر ممبرز بورڈ آف ریونیو، نیب کا گریڈ 21 یا اس سے اوپر کا ایک نمائندہ، چیف کمشنر اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری اور ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) کا نمائندہ کمیٹی میں شامل ہوگا۔ ایف بی آر کمیٹی کو سیکریٹریل معاونت فراہم کرے گا۔

کمیٹی کو یہ ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ رئیل اسٹیٹ میں فائل سسٹم کے عملی طریقہ کار اور قانونی اسٹیٹس کا جائزہ لے جب کہ وفاقی اور صوبائی سطح پر اس کاروبار کے حکومتی ریونیو پر پڑنے والے اثرات کا بھی تجزیہ کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ فائل ہولڈرز اور خریداروں کے حقوق، خاص طور پر ڈویلپرز کی جانب سے مبینہ فراڈ، جعلی یا دہری فائلوں کے اجرا اور ایک ہی جائیداد کی بار بار فروخت جیسے معاملات کو بھی جانچا جائے گا۔

ٹی او آرز کے تحت کمیٹی متعلقہ قوانین میں ضروری ترامیم کی سفارش بھی کرے گی تاکہ پراپرٹی فائلوں کی خرید و فروخت کو ایک واضح اور باضابطہ قانونی فریم ورک کے تحت لایا جا سکے۔ اس اقدام کا مقصد ٹیکسوں کی درست وصولی کو یقینی بنانا اور سرمایہ کاروں کو قانونی تحفظ فراہم کرنا ہے۔

کمیٹی کو یہ اختیار بھی حاصل ہوگا کہ وہ اپنے مینڈیٹ سے جڑے دیگر امور کا بھی جائزہ لے سکے۔

کمیٹی کو ایک ماہ کے اندر اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق یہ کمیٹی ایک بڑے ہاؤسنگ اسکینڈل کے انکشاف کے بعد قائم کی گئی ہے، جس میں بتایا گیا تھا کہ اسلام آباد اور راولپنڈی کی نجی ہاؤسنگ اسکیموں نے مبینہ طور پر بغیر زمین کے 90 ہزار سے زائد پلاٹس فروخت کیے اور سیکڑوں ارب روپے وصول کیے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button