پاکستان

لاہور ہائیکورٹ نے واٹس ایپ گروپس پر فوجداری ذمہ داری کا فیصلہ سنایا

لاہور ہائیکورٹ نے 13 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا جس میں واٹس ایپ گروپ ایڈمنز اور ممبرز کی فوجداری ذمہ داریوں کی قانونی حدود واضح کی گئیں۔ فیصلہ میں واضح کیا گیا کہ صرف گروپ میں شامل ہونا یا ایڈمن ہونا جرم نہیں۔

لاہور ہائیکورٹ نے اکتوبر 2026 میں واٹس ایپ گروپس سے متعلق ایک اہم فیصلہ جاری کیا۔ اس فیصلے میں، جس کا احاطہ 13 صفحات پر ہوا، معزز جج جسٹس طارق سلیم شیخ نے واضح کیا کہ صرف کسی واٹس ایپ گروپ کا ممبر یا ایڈمن ہونا کسی جرم یا فوجداری ذمہ داری کے زمرے میں نہیں آتا۔ عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ گروپ میں شامل ہونا یا ایڈمن کی حیثیت رکھنا خود میں کوئی قانونی جرم نہیں، لیکن اگر گروپ کے ذریعے فوجداری جرم کی کارروائی کی جائے تو اُس میں شامل افراد کو ذمہ دار ٹھہرانے کے لیے مزید قانونی معیار مقرر کیے جائیں گے۔ اس فیصلے سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر سرگرمیوں کی قانونی حدود واضح ہوئی ہیں اور صارفین کو یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ کون سی سرگرمیاں قانونی طور پر قابلِ مجاز ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button