پاکستان

مسوڑھوں کی بیماری اور گردے کی صحت کا نیا رابطہ

جرمنی کے ہیمبرگ یونیورسٹی میڈیکل سینٹر کی تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ مسوڑھوں کی شدید بیماری (پیریڈونٹائٹس) گردے کے افعال میں کمی اور دائمی گردے کی بیماری کے ابتدائی مراحل سے جڑی ہے۔
یہ دریافت مسوڑھوں کی صحت کو نہ صرف دانتوں کے لیے اہم بناتی ہے بلکہ گردے کے مریضوں کے لیے بھی خطرے کا باعث ہو سکتی ہے۔

جرمنی کے ہیمبرگ یونیورسٹی میڈیکل سینٹر ایپینڈورف میں ہونے والی تازہ تحقیق نے مسوڑھوں کی بیماری اور گردے کے افعال میں کمی کے درمیان ایک اہم تعلق کو واضح کیا ہے۔
اس مطالعے میں 6,179 افراد کے طبی ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا، جس سے واضح ہوا کہ شدید مسوڑھوں کی بیماری (پیریڈونٹائٹس) نہ صرف دانتوں اور مسوڑھوں کو متاثر کرتی ہے بلکہ گردے کے افعال میں بھی نمایاں کمی کا باعث بنتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مسوڑھوں میں پیدا ہونے والی سوزش اور بیکٹیریا خون کے دوران گردش کر کے گردے کے فیلٹرز کو متاثر کرتے ہیں، جس سے دائمی گردے کی بیماری (CKD) کے ابتدائی مراحل کو فروغ ملتا ہے۔
یہ دریافت دندان سازی اور عمومی صحت کے ماہرین کے لیے ایک اہم پیغام ہے کہ مسوڑھوں کی بیماری کو صرف منہ تک محدود نہ سمجھا جائے، بلکہ اسے مجموعی صحت کے ایک اہم جز کے طور پر دیکھا جائے۔
ماہرین اس تحقیق کے بعد مزید مطالعات کی تجویز دیتے ہیں تاکہ مسوڑھوں کے علاج کے ساتھ ساتھ گردے کی صحت کو بھی بہتر بنایا جا سکے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button