ساہیوال ہسپتال: نوزائیدہ بچی کو غلطی سے مردہ قرار

ساہیوال ٹیچنگ ہسپتال کے چلڈرن وارڈ میں ایک نوزائیدہ بچی کو غلطی سے مردہ قرار دے کر ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کیا گیا۔ انتظامیہ نے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے تین رکنِ تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی۔
ساہیوال ٹیچنگ ہسپتال کے چلڈرن وارڈ میں ایک نوزائیدہ بچی کو غلطی سے مردہ قرار دے کر ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کیا گیا۔ یہ واقعہ ہسپتال کے انتظامیہ کے لیے سنگین چیلنج بن گیا۔
اس واقعے کے بعد، پرنسپل ڈاکٹر اختر ملک نے فوری طور پر تین رکنِ تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی تاکہ اس معاملے کی مکمل جانچ پڑتال کی جا سکے۔ کمیٹی کی سربراہی ڈاکٹر نصیر احمد پر رکھی گئی، جبکہ ڈاکٹر سعیدہ بانو اور تنویر خان بھی اس کے اراکین ہیں۔
کمیٹی نے ڈپٹی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کی ابتدائی رپورٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈیتھ سرٹیفکیٹ کے جاری کرنے کے عمل کی مکمل انکوائری کا حکم دیا۔ اس کے ساتھ ہی ہسپتال کی دیگر انتظامی کارروائیوں کا جائزہ لینے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
اہم مقصد یہ ہے کہ مستقبل میں ایسے غلطیوں کو روکا جائے اور مریضوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ ہسپتال انتظامیہ نے اس سلسلے میں مزید شفافیت اور احتیاط برتنے کا عہد کیا۔
یہ واقعہ ساہیوال میں ہسپتال کے معیار اور مریضوں کی حفاظت کے حوالے سے عوامی تشویش کا باعث بن گیا ہے۔




