پاکستان

امریکہ نے ایران پر تیل کی فروخت کی پابندی دوبارہ عائد کی: عالمی منڈی پر اثرات

امریکہ نے ہرمز آبنائے میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد ایران پر تیل کی فروخت پر پابندیوں کو دوبارہ فعال کر دیا ہے۔ اس اقدام سے عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں 5٪ سے زائد کا اضافہ ہوا ہے اور مشرق وسطیٰ میں سیاسی کشیدگی میں شدت آئی ہے۔

امریکہ نے 8 جولائی 2026 کو اعلان کیا کہ ایران پر تیل کی فروخت پر پابندیوں کو دوبارہ عائد کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ ہرمز آبنائے میں تجارتی جہازوں پر ایران کے مبینہ حملوں کے بعد لیا گیا۔ امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام خطے میں بحری سلامتی کو یقینی بنانے اور ایران کے غیر مستحکم کرنے والے اقدامات کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری ہے۔

اس پابندی کے فوری اثرات عالمی تیل کی مارکیٹ پر مرتب ہوئے، جہاں خام تیل کی قیمتوں میں 5 فیصد سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ عالمی سپلائی چینز پر دباؤ ڈالے گا اور توانائی کی لاگت میں مزید اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔ ایران کے وزارت خارجہ نے امریکی پابندیوں کو ‘اقتصادی دہشت گردی’ قرار دیا ہے اور دھمکی دی ہے کہ وہ اپنے تیل کی برآمدات کو جاری رکھنے کے لیے تمام ممکنہ راستے اختیار کرے گا۔

بین الاقوامی برادری نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ نے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی ہے۔ یورپی یونین نے بھی اپنے بیان میں مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے حل پر زور دیا ہے۔ یہ پابندیاں ایران کی معیشت پر مزید دباؤ ڈالیں گی، جو پہلے ہی امریکی پابندیوں کی وجہ سے شدید مشکلات کا شکار ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button