دہلی سکھ گوردوارہ: فلم ‘ستلج’ کی عوامی نمائش کا اعلان پابندی کے باوجود

دہلی سکھ گوردوارہ مینجمنٹ کمیٹی (DSGMC) نے فلم ‘ستلج’ کی عوامی نمائش کا اعلان کیا ہے، حالانکہ بھارت میں سنسر بورڈ نے اس فلم پر پابندی عائد کر دی تھی۔ یہ فلم پہلے OTT پلیٹ فارم زی فائیو پر ریلیز ہوئی تھی لیکن دو دن کے اندر ہی سٹریمنگ روک دی گئی۔
دہلی سکھ گوردوارہ مینجمنٹ کمیٹی (DSGMC) نے حال ہی میں اعلان کیا کہ وہ فلم "ستلج” کی عوامی نمائش کرائے گی، حالانکہ یہ فلم بھارت میں سنسر بورڈ کی پابندی کے بعد ریلیز ہوئی تھی۔ یہ اقدام فلم کی ریلیز کے گرد پیدا ہونے والے تنازعے کے بعد کیا گیا ہے، جہاں سکھ برادری کے حقوق اور ثقافتی اظہار کی آزادی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
فلم "ستلج” کو اس کے نئے نام سے OTT پلیٹ فارم زی فائیو پر ریلیز کیا گیا تھا، مگر دو دن کے اندر ہی اس کی سٹریمنگ روک دی گئی تھی، جس سے فلم کے مبصرین اور عوام میں ایک نیا بحث چھڑ گئی۔
دہلی کی سکھ کمیٹی کے صدر ہرمیت سنگھ کالکا نے اس اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو اس فلم کو دیکھنے کا حق حاصل ہونا چاہیے، اور وہ اس کی نمائش کو عوامی سطح پر ممکن بنائیں گے۔ کالکا نے مزید کہا کہ DSGMC کسی بھی قسم کے دباؤ میں نہیں آئے گی اور سکھ کمیونٹی کے ثقافتی اور سماجی حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ فلم پر پابندی سکھ برادری کے جذبات کو مجروح کر رہی ہے اور انہیں اپنے ثقافتی ورثے سے متعلق کہانیوں کو دیکھنے کا حق حاصل ہے۔
یہ اقدام سوشل اور ثقافتی حقوق کی پاسداری کے لیے اہم سمجھا گیا ہے، اور اس کے تحت فلم کو آزادانہ طور پر دیکھنے کی اجازت دی جائے گی۔ کمیٹی کا یہ اعلان سکھ کمیونٹی کے لیے اپنی آواز بلند کرنے کا ایک ذریعہ بن گیا ہے اور امید ہے کہ اس سے ملک میں اظہار رائے کی آزادی پر مزید بحث چھڑے گی۔




