ٹرمپ کا ٹک ٹاک پر فالوورز کا دعویٰ: حقائق نے برعکس ثابت کیا

ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں میڈیا بریفنگ کے دوران ٹک ٹاک پر سب سے زیادہ فالوورز کا دعویٰ کیا۔ تاہم، عوامی طور پر دستیاب ڈیٹا اس دعویٰ کو برعکس ثابت کرتا ہے۔
ٹک ٹاک پر فالوورز کی دوڑ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ایک شکوک و شبہات سے خالی دعویٰ کیا کہ وہ ٹک ٹاک پر سب سے زیادہ فالوورز رکھنے والی شخصیت ہیں۔ وائٹ ہاؤس میں میڈیا بریفنگ کے دوران اس نے بتایا کہ دو روز قبل جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق وہ پہلے نمبر پر ہیں جبکہ عالمی شہرت یافتہ پاپ گلوکارہ ٹیلر سوئفٹ گیارہویں نمبر پر ہے۔
دعوے کے برعکس، عوامی طور پر دستیاب ڈیٹا نے ٹرمپ کے اس دعویٰ کو جھٹک دیا۔ مختلف سوشل میڈیا تجزیاتی پلیٹ فارمز اور ٹک ٹاک کے اندرونی اعداد و شمار کے مطابق، ٹیلر سوئفٹ کی فالوورز کی تعداد ٹرمپ سے کہیں زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ، ٹک ٹاک کے ڈیش بورڈ پر دستیاب فالوور گراف بھی واضح طور پر ٹرمپ کے دعویٰ کو برعکس دکھاتے ہیں۔
سیاستدانوں اور میڈیا کے ماہرین نے اس دعوے پر تشویش کا اظہار کیا، یہ کہتے ہوئے کہ عوامی رائے کو گمراہ کرنے کے لیے ایسے دعوے غیر ذمہ دارانہ ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سوشل میڈیا کے اعداد و شمار کو ہمیشہ مستقل اور مستند ذرائع سے تصدیق کیا جانا چاہیے۔
ٹک ٹاک کے مالک کمپنی نے بھی اس دعوے پر کوئی رائے نہیں دی، لیکن انہوں نے کہا کہ پلیٹ فارم پر ہر صارف کی فالوور گنتی عوامی طور پر دستیاب ہے اور کسی بھی قسم کی غلط معلومات کو درست کرنے کے لیے وہ مکمل شفافیت پر یقین رکھتے ہیں۔




