وفاقی آئینی عدالت نے نسلہ ٹاور کی مسماری کے احکامات واپس لیے

کراچی کے وفاقی آئینی عدالت نے نسلہ ٹاور کی مسماری کے سپریم کورٹ کے احکامات واپس لے لیے۔ عدالت نے واضح کیا کہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کا اختیار عدالت کا نہیں بلکہ متعلقہ صوبائی حکومت اور مجاز اداروں کا ہے۔
کراچی کے وفاقی آئینی عدالت نے 10 جولائی 2026 کو اعلان کیا کہ وہ سپریم کورٹ کے 2018 اور 2019 میں جاری کیے گئے نسلہ ٹاور کی مسماری کے احکامات واپس لے رہی ہے۔
فیصلے میں عدالت نے کہا کہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کا اختیار عدالت کا نہیں بلکہ متعلقہ صوبائی حکومت اور مجاز اداروں کا ہے۔ عدالت نے مزید واضح کیا کہ اس کے دائرہ کار میں صرف وہی معاملات آتے ہیں جو اس کے سامنے موجود ہیں اور اس سے باہر کے معاملات میں مداخلت سے گریز کرنا چاہیے۔
اس فیصلے سے واضح ہوتا ہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے اپنا کردار صرف عدالتی تنازعات تک محدود رکھا ہے اور اس نے مسماری کے احکامات کو واپس لے کر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ذمہ داری سونپی ہے۔ یہ اقدام قانون کے بنیادی اصولوں کے مطابق ہے جس میں عدالتوں کا دائرہ کار محدود اور واضح رکھا جاتا ہے۔




