پاکستانی شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد پر مطالبہ

پاکستانی شوگر ملز ایسوسی ایشن نے وفاقی حکومت سے چینی برآمد کی اجازت کے مطالبہ کیا۔ اس کا مقصد کرشنگ سیزن سے پہلے اضافی پیداوار کا برآمد کر کے بحران سے بچنا ہے۔
پاکستان میں شُگر ملز ایسوسی ایشن نے حال ہی میں وفاقی حکومت سے چینی برآمد کی اجازت کے مطالبے کے ساتھ ایک عوامی بیان جاری کیا۔ اس بیان میں کہا گیا کہ سال 2026 میں ملک میں 7.7 ملین ٹن چینی کی پیداوار ہوئی، جو ملکی ضرورت سے 10 لاکھ ٹن زیادہ ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق، اس اضافی چینی کو برآمد نہ کرنے سے کرشنگ سیزن کے دوران قیمتوں میں اضافہ اور مارکیٹ میں عدم استحکام کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ اس لیے انہوں نے حکومت سے درخواست کی کہ وہ چینی برآمد کی منظوری فوری طور پر دے تاکہ مارکیٹ میں اضافی ذخائر کو باہر نکالا جا سکے۔
حکومت نے اس سلسلے میں پہلے بھی چینی برآمد کی اجازت دی تھی، مگر حالیہ اضافی ذخائر اور عالمی مارکیٹ کی صورتحال کے پیش نظر ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ برآمد کی اجازت دوبارہ جاری کرنی ضروری ہے۔
شُگر ملز ایسوسی ایشن کے مطابق، گوداموں میں 7 ملین ٹن سے زائد اضافی چینی موجود ہے اور برآمد کی منظوری سے نہ صرف ملکی مارکیٹ میں قیمتوں کا استحکام ممکن ہو گا بلکہ برآمدی آمدنی میں بھی اضافہ ہو گا۔




