پاکستان میں گندم بحران: قیمتوں کا بے مثال بڑھنا

شہباز حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کے ساتھ، گندم اور آٹے کی قیمتیں تاریخی سطح پر پہنچیں۔ مشیر خزانہ مزمل اسلام نے عوام کو خبردار کیا۔
پاکستان میں گندم بحران نے تازہ ترین دنوں میں شدت اختیار کر لی ہے۔ مشیر خزانہ خیبر پختونخوا، مزمل اسلام نے اس ہفتے کراچی سے پشاور تک گندم اور آٹے کی قیمتوں میں بے مثال اضافہ پر عوامی توجہ دلائی اور حکومت پر ذمہ داری ڈالی۔
مزمل اسلام کے مطابق، گندم کی قیمت حالیہ دنوں میں 100 کلو کے لیے 11,600 روپے تک پہنچ چکی ہے، جبکہ مارکیٹ میں گندم کی قیمت 115 روپے فی کلو اور آٹے کی قیمت 130 سے 150 روپے فی کلو ہے۔ یہ نرخ 2022 میں آٹے کے 65 سے 70 روپے فی کلو کے مقابلے میں دوگنا سے زائد ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ عوام کو پیٹرولیم لیوی پر توجہ دی جا رہی ہے، جس سے گندم بحران سے ہٹایا جا رہا ہے۔ حکومت کے 4 سالہ پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ پنجاب کی غلط پالیسیاں گندم کی فراہمی اور قیمتوں پر برا اثر ڈال رہی ہیں۔
گندم بحران پاکستان میں تیسری مرتبہ سامنے آیا ہے، جس سے عوامی زندگی پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ مہنگائی میں اضافہ، خوراک کے اخراجات کا بڑھنا، اور معاشی عدم استحکام کے خطرات واضح ہو رہے ہیں۔ حکومت کو فوری اقدامات کے ذریعے گندم کی فراہمی اور قیمتوں کو کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو بھاری بوجھ سے نجات مل سکے۔




