گلیشیئرز کا پگھلنا: پاکستان کے لیے سنگین خطرہ

پاکستان کے سپارکو کے ڈائریکٹر ڈاکٹر مطیع اللہ حق نے گلیشیئرز کے پگھلنے اور آگے بڑھنے سے پیدا ہونے والے خطرات پر زور دیا۔ یہ تبدیلیاں برفانی جھیلوں کے پھٹنے اور سیلاب کا باعث بن سکتی ہیں۔ حکام کو فوری اقدامات کی ہدایت دی گئی۔
پاکستان کے خلائی تحقیقاتی ادارے سپارکو کے ڈائریکٹر ڈاکٹر مطیع اللہ حق نے 15 جولائی 2026 کو اعلان کیا کہ گلیشیئرز کا غیر معمولی طور پر پگھلنا اور آگے بڑھنا دونوں ہی پاکستان کی عوامی سلامتی کے لیے سنگین خطرے کا باعث ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گلیشیئرز کے پگھلنے سے برفانی جھیلیں بن جاتی ہیں جو پھٹنے پر شدید سیلاب کا سبب بن سکتی ہیں، جس سے قریبی گاؤں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچتا ہے۔
دائریکٹر حق نے کہا کہ گلیشیئرز کے پگھلنے سے پانی کی روانی میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے دریاؤں کی سطح بڑھ رہی ہے اور سیلاب کا امکان بڑھ رہا ہے۔ یہ صورتحال خاص طور پر ہمالیہ و شمالی علاقوں میں زیادہ خطرناک ہے جہاں پانی کے ذخائر اور برفانی جھیلوں کے کنارے کمزور ہیں۔
حکومت سے اپیل کی گئی ہے کہ فوری طور پر ماحولیاتی تحفظ کے اقدامات کیے جائیں اور عوام کو خطرے کے بارے میں آگاہ کیا جائے۔ سپارکو نے مزید بتایا کہ وہ مستقبل میں گلیشیئرز کی نگرانی کے لیے مزید ٹیکنالوجی کا استعمال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔




