پنجاب میں گاڑیوں کے ٹوکن ٹیکس میں 20 سال بعد بڑا اضافہ

پنجاب میں 1,000 سی سی سے زائد کی گاڑیوں پر ٹوکن ٹیکس میں 20 سال بعد بڑا اضافہ ہوا۔ حکومت نے ڈیلرز کو ہولڈنگ ایجنٹ بننے پر مجبور کیا اور بغیر رجسٹریشن کے ڈیلیوری پر جرمانہ لگایا۔ سیلز ٹیکس کی شرح بھی بڑھائی گئی۔
پنجاب حکومت نے مالی سال کے فنانس بل کے تحت 1,000 سی سی سے زائد کی کمرشل اور بڑی گاڑیوں پر ٹوکن ٹیکس میں 20 سال بعد پہلی بار اضافہ کیا۔ اس اقدام کے تحت کار ڈیلرز کو حکومت کے وِڈ ہولڈنگ ایجنٹ کے طور پر کام کرنے پر مجبور کیا گیا، اور بغیر رجسٹریشن کے گاڑی ڈیلیور کرنے پر شو روم مالکان پر بھاری جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ مزید برآں، فنانس بل کے مطابق ہوٹلوں میں کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ سے ادائیگی پر سیلز ٹیکس 8 فیصد اور دیگر عام خدمات پر سیلز ٹیکس کی شرح 5 فیصد سے بڑھا کر 8 فیصد کردی گئی۔ یہ اقدامات ٹیکس کے عائد کرنے کے نظام کو مضبوط بنانے اور کار مارکیٹ میں شفافیت لانے کے لیے کیے گئے ہیں۔




