پاکستان

حکومتی لاپروائی سے زندہ خاتون کو مردہ قرار، پنشن اور راشن بند

کرنٹک کے ہاویری ضلع میں حکومتی لاپروائی کی وجہ سے ایک زندہ خاتون کو مردہ قرار دے کر پنشن اور راشن کارڈ منسوخ کر دیا گیا۔ اس غلطی سے خاتون کو مالی اور سماجی سہولیات سے محروم کر دیا گیا۔

کرنٹک کے ہاویری ضلع میں حکومتی لاپروائی کا ایک شدید واقعہ سامنے آیا ہے جس میں ایک زندہ خاتون کو سرکاری ریکارڈ میں مردہ قرار دے کر پنشن، آدھار کارڈ اور راشن کارڈ منسوخ کر دیے گئے۔ اس خاتون، جو گاؤں شیوگانگاوا تھاری میں رہتی تھیں، کی والدہ شنکراوا کے انتقال کے بعد ان کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے لیے حکومتی دفاتر میں قدم رکھا۔ تاہم، انتظامیہ کی غلطی کے سبب خاتون کی شناخت غلط طریقے سے درج ہو گئی اور ان کو سرکاری ریکارڈ میں مردہ قرار دیا گیا۔ اس کے نتیجے میں ان کی ماہانہ پنشن، آدھار کارڈ اور راشن کارڈ معطل کر دیے گئے، جس سے ان کی بنیادی زندگی کے ضروری وسائل متاثر ہو گئے۔ مقامی حکام اور سماجی کارکنان نے اس غلطی پر شدید تنقید کی اور فوری اصلاح کے مطالبے کیے۔ حکومتی حکام نے معذرت کے ساتھ کہا کہ یہ ایک انتظامی غلطی تھی اور جلد از جلد درستگی کی جائے گی۔ اس واقعے نے بھارت میں سرکاری ریکارڈ کی درستگی اور سماجی تحفظ کے نظام پر نئی روشنی ڈالی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button